سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 552
سیرت المہدی 552 حصہ سوم ہو جائے گا یہ مراد نہیں ہے کہ کسی کام کے لئے صرف منگل تک آنے جانے میں قصر جائز ہو جاتا ہے۔یا یہ بھی ممکن ہے کہ منگل تک آنے جانے کو صرف عورت کے لئے سفر قرار دیا ہو کیونکہ عورت کمزور جنس ہے۔والله اعلم 577 بسم الله الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں موسم گرما میں مسجد مبارک میں عشاء کی نماز ہونے لگی تو تکبیر سُنتے ہی نیچے مرزا امام الدین، مرزا نظام الدین صاحبان کے احاطہ میں سے جہاں پر کئی ڈھول وغیرہ بجانے والے آئے ہوئے تھے۔ان لوگوں نے ڈھول اور نفیری وغیرہ اس طرح بجانے شروع کئے کہ گویا وہ اپنی آوازوں سے نماز کی آواز کو پست کرنا چاہتے ہیں اور غالبا یہ ان عمالیق کے اشارہ سے تھا۔مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم بڑے جَهِيرُ الصَّوت تھے۔(اتنے کہ صبح کی اذان ان کی نہر کے پل پر سنی جاتی تھی ) انہوں نے بھی قرآت بلند کی۔ڈھول والوں نے اپنا شور اور بلند کیا۔مولوی صاحب قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ رہے تھے۔أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى ثُمَّ أَولَى لَكَ فَاَولی - (القيامة : ۳۵) ( یعنی تجھ پر ہلاکت ہو۔ہاں اے گندے انسان! تجھ پر پھر ہلاکت ہو ) اس آیت کو بار بار دہراتے تھے۔اور ہر دفعہ ان کی آواز اونچی ہوتی چلی جاتی تھی۔گویا شیطان سے مقابلہ تھا۔دیر تک یہ مقابلہ جاری رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس نماز میں شامل تھے۔غرض مولوی صاحب نے اس وقت اتنی بلند آہنگی سے نماز اور قرآت پڑھی کہ سب نے سُن لی۔اور شوراگر چہ سخت تھا۔مگر یہ شور اُن کی پُر شوکت آواز کے آگے مغلوب ہو گیا۔آیت بھی نہایت با موقعہ تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب نے جو عمالیق کا لفظ بیان کیا ہے اس سے مراد مرزا صاحبان مذکور ہیں۔جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام نصف ترا نصف عمالیق را“ میں عمالیق کا لفظ استعمال ہوا ہے۔عمالیق عربوں میں پرانے زمانہ میں ایک جابر قوم گذری ہے۔578 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹرمیر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن مسجد مبارک کی مجلس میں حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے فرمایا کہ حضرت داؤد کا قول ہے کہ میں نے کسی نیک آدمی کی