سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 547 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 547

سیرت المہدی 547 حصہ سوم درست نہیں وہ اصل میں گوڑیانی کے رہنے والے تھے۔566 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فیاض علی صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جماعت کپورتھلہ دُنیا میں سب سے پہلی احمدی جماعت ہے یہ وہ جماعت ہے جس کے پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تحریری پیشگوئی موجود ہے۔اور اخبار میں بھی شائع ہو چکی ہے کہ جماعت کپورتھلہ دنیا میں بھی میرے ساتھ رہی ہے اور قیامت کو بھی میرے ساتھ ہوگی“۔خدا گواہ ہے۔میں نے اس کو فخر سے نہیں عرض کیا۔محض خدا کی نعمت کا اظہار کیا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کے متعلق سیرۃ المہدی کی روایت نمبر ۷۹ میں بھی ذکر گذر چکا ہے۔نیز اس وقت بوقت تحریر حصہ سوم میاں فیاض علی صاحب مرحوم فوت ہو چکے ہیں۔567 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی عبد العزیز صاحب او جلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک روز کا واقعہ ہے کہ ایک دودھ کا بھرا ہوا لوٹا حضور کے سرہانے رکھا ہوا تھا۔خاکسار نے اُسے پانی سمجھ کر ہلا کر جیسا کہ لوٹے کو دھوتے وقت کرتے ہیں پھینک دیا۔جب مجھے معلوم ہوا کہ یہ دودھ تھا۔تو مجھے سخت ندامت ہوئی لیکن حضور نے بڑی نرمی اور دلجوئی سے فرمایا اور بار بار فرمایا۔کہ بہت اچھا ہوا کہ آپ نے اُسے پھینک دیا۔دودھ اب خراب ہو چکا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ علاوہ دلداری کے حضرت صاحب کا منشاء یہ ہوگا، کہ لوٹے وغیرہ کی قسم کے برتن میں اگر دودھ زیادہ دیر تک پڑا رہے تو وہ خراب ہو جاتا ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبدالعزیز صاحب حضرت صاحب کے پرانے مخلصین میں سے ہیں اور اب ایک عرصہ سے پٹوار کے کام سے ریٹائر ہوکر قادیان میں سکونت پذیر ہو چکے ہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ منشی عبدالعزیز صاحب کی بہت سی روایات مجھے مکرم مرزا عبدالحق صاحب وکیل گورداسپور نے لکھ کر دی ہیں۔فَجَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا۔568 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی عبد العزیز صاحب او جلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ ایک شخص مسمی سانوں ساکن سیکھواں نے میرے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔اب وہ مقبرہ بہشتی میں دفن ہیں۔ان کو نزول الماء کی بیماری تھی۔حضرت خلیفہ اول کو آنکھیں دکھا ئیں۔تو