سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 544 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 544

سیرت المہدی 544 حصہ سوم درد سے تڑپتا تھا۔اور آخر اسی نامعلوم بیماری میں وہ دنیا سے گذر گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ لفٹینینٹ ڈاکٹر غلام احمد صاحب آئی۔ایم۔ایس نے جو کہ محمد بخش صاحب تھانیدار کے پوتے ہیں مجھ سے بیان کیا۔کہ ان کے دادا کی وفات ہاتھ کے کار بنکل سے ہوئی تھی۔اس کا ذکر روایت نمبر ۲۵۶ میں بھی آچکا ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب اور ان کے والد شیخ نیاز محمد صاحب تھانہ دار مخلص احمدی ہیں۔وَقَالَ اللهُ تَعَالَى : يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ ( الروم :۲۰) 561 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگر وال ضلع گورداسپور نے مجھ سے بیان کیا۔کہ حضرت صاحب کے ایک ماموں زاد بھائی مرزا علی شیر ہوتے تھے۔جو حضرت صاحب کے سالہ بھی تھے۔وہ جالندھر میں پولیس میں ملازم تھے۔ان کی لڑکی عزت بی بی کے بعد ان کی اولا دمر جاتی تھی۔پھر ان کے ایک لڑکا ہوا جو بہت خوبصورت اور ہونہار معلوم ہوتا تھا۔جب وہ قریباً تین سال کا ہوا تو وہ بیمار ہو گیا۔۔۔۔۔۔جب وہ بیمار ہوا تو مجھے گھر سے کہا گیا کہ مرزا صاحب سے کہو کہ اُسے آکر دیکھ جائیں اور دوا دیں۔(اس وقت دادا صاحب فوت ہو چکے تھے ) حضرت صاحب اس زمانہ میں گھر نہیں جایا کرتے تھے۔میں عرض کر کے ساتھ لے گیا۔حضرت صاحب نے دیکھا اور دوا بھی بتائی۔پھر واپس آکر شام کو حسب دستور فرمانے لگے۔استخارہ کرو۔میں استخارہ کر کے سویا۔تو رات کو مجھے خواب آیا۔کہ ایک کھیت میں ہل چل رہا ہے اور ہل میں دو بیل لگے ہوئے ہیں جس میں دائیں طرف کا بیل گورے رنگ کا تھا۔میں نے دیکھا کہ ہل چلتے چلتے وہ بیل الٹ کر گر گیا اور پھر مر گیا۔صبح اٹھ کر میں نے یہ خواب حضرت صاحب سے بیان کی۔آپ نے خواب نامہ نکال کر دیکھا۔جس کے بعد میں نے تعبیر پوچھی تو فرمانے لگے۔آپ لوگ زمیندار ہیں۔زمینداروں والے نظارے خواب میں نظر آجاتے ہیں۔میں نے اصرار کیا کہ تعبیر بتائیے۔تو فرمایا۔کہ سب خوابیں درست نہیں ہوتیں۔بعض اوقات خیال سے بھی خواب آجاتی ہے۔مگر میں نے پھر بھی اصرار کیا۔جس پر فرمایا۔کہ تم تعبیر بتا دو گے اور شور پڑ جائے گا۔اگر وعدہ کرو کہ نہ بتاؤ گے تو بتاؤں گا۔میں نے وعدہ کیا تو آپ نے بتایا۔کہ یہ لڑ کا فوت ہو جائے گا۔چنانچہ دوسرے دن وہ لڑکا فوت ہو گیا۔