سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 541 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 541

سیرت المہدی کونسی ہے۔541 حصہ سوم 554 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی امام الدین صاحب سابق پٹواری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ فجر کی نماز کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔اور بعض اصحاب بھی حلقہ نشین تھے تو اس وقت میرے دل میں خیال پیدا ہوا۔کہ حضرت اقدس کا دعوی تو مسیح موعود ہونے کا ہے۔مگر مہدی جو اس زمانہ میں آنا تھا۔کیا وہ کوئی علیحدہ شخص ہوگا۔اسی وقت حضور علیہ السلام نے تقریر شروع فرما دی اور بیان فرمایا کہ میں مسلمانوں کے لئے مہدی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بُروز ہوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود یعنی حضرت مسیح ناصری کا مثیل بن کر آیا ہوں۔حضور نے لمبی تقریر فرمائی جس سے میری پوری تسلی ہو گئی۔اسی طرح اکثر دیکھا ہے کہ اگر کسی کوکوئی اعتراض پیدا ہوتا تو حضور کو اللہ تعالے کی طرف سے اس کا علم دیا جاتا تھا اور حضور علیہ السلام اُسے بذریعہ تقریر رد فرما دیا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ انبیاء کو علم غیب نہیں ہوتا۔پس ایسی روایتوں کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مامورین سے اصلاح کا کام لینا ہوتا ہے اس لئے انہیں بسا اوقات دوسروں کے خیالات کا علم دیا جاتا ہے۔یا بغیر علم دینے کے ویسے ہی ان کی زبان کو ایسے رستہ پر چلا دیا جاتا ہے جو سامعین کے شکوک کے ازالہ کا باعث ہوتا ہے۔555 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگر وال ضلع گورداسپور نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ایک اشتہار دیا۔جس میں رفع یدین۔آمین وغیرہ کے مسائل تھے اور جواب کے لئے فی مسئلہ دس روپیہ انعام مقرر کیا تھا۔دس مسائل تھے۔حضرت صاحب نے مجھے سُنایا اور فرمایا۔کہ دیکھو یہ کیسا فضول اشتہار ہے۔جب نماز ہر طرح ہو جاتی ہے تو ان باتوں کا تنازعہ موجب فساد ہے۔اس وقت ہمیں اسلام کی خدمت کی ضرورت ہے نہ کہ ان مسائل میں بحث کی۔اس وقت تک ابھی حضور کا دعوی نہ تھا۔پھر آپ نے اسلام کی تائید میں ایک مضمون لکھنا شروع کیا۔اور میری موجودگی میں دو تین دن میں ختم کیا اور فرمایا۔میں فی مسئلہ ہزار روپیہ انعام رکھتا ہوں۔یہ براہین احمدیہ کی ابتدا تھی۔جس میں اسلام کی تائید میں دلائل درج کئے گئے تھے۔