سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 536 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 536

سیرت المہدی قبول ہوئیں۔536 حصہ سوم 543 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نبی بخش صاحب ساکن فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے باغ میں سیر کے لئے تشریف لے گئے۔اس وقت حضور کے دست مبارک میں ایک بید کا عصا تھا۔ایک درخت پر پھل اتارنے کے لئے وہ عصا مارا مگر وہ عصا درخت میں ہی اٹک گیا اور ایسی طرح پھنسا کہ اُترنے میں ہی نہ آتا تھا۔اصحاب نے ہر چند سوٹا اتارنے کی کوشش کی۔مگر کامیابی نہ ہوئی۔میں نے عرض کیا کہ حضور میں درخت پر چڑھ کر اتار دیتا ہوں اور میں جھٹ چڑھا اور عصا مبارک استارلایا۔حضور اس قدر خوش اور متعجب ہوئے کہ بار بار محبت بھرے الفاظ میں فرماتے تھے کہ ”میاں نبی بخش یہ تو آپ نے کمال کیا۔کہ درخت پر چڑھ کر فوراً سوٹا اُتار لیا۔کیسے درخت پر چڑھے اور کس طرح سے درخت پر چڑھنا سیکھا۔یہ سوٹا تو ہمارے والد صاحب کے وقت کا تھا۔جسے گویا آج آپ نے نیا دیا ہے۔‘ حضور راستہ میں بھی بار بار فرماتے تھے کہ میاں نبی بخش نے درخت پر چڑھ کر سوٹا اتارنے میں کمال کیا ہے۔نیز حضور کی عادت میں داخل تھا کہ خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا کسی کوٹھو کے لفظ سے خطاب نہ کرتے تھے حالانکہ میں چھوٹا بچہ تھا۔مجھے کبھی حضور نے تو سے مخاطب نہ کیا تھا۔544 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نبی بخش صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں قادیان آیا تو ان ایام میں ایک چھوٹی چار پائی بیت الفکر میں موجود رہتی تھی اور کمرہ میں قہوہ تیار رہتا اور پاس ہی مصری موجود ہوتی تھی۔میں جتنی دفعہ دن میں چاہتا قہوہ پی لیتا۔حضور فرماتے اور پیو اور پیو۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ان دنوں میں حضور کسی تصنیف میں مصروف ہوں گے اور بدن میں چستی قائم رکھنے کے لئے چائے تیار رہتی ہوگی جس سے آپ آنے جانے والے کی تواضع بھی فرماتے رہتے ہونگے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیت الفکر حضور کے مکان کے اس کمرہ کا نام ہے جو مسجد مبارک سے متصل جانب شمال ہے جس میں سے ایک کھر کی نما دروازہ مسجد میں کھلتا ہے۔545 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ