سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 533 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 533

سیرت المہدی 533 حصہ سوم کلارک کے پاس بھیجا کہ ہمارے ہمراہ دور کے آگئے ہیں اگر آپ اجازت دیں تو ہم ان کو اپنے ہمراہ لے آئیں۔انہوں نے اجازت دے دی اور ہم سب کے ساتھ اندر چلے گئے۔کوئی اور ہوتا تو ہم کو واپس گھر بھیج دیتا کہ تمہارا یہاں کوئی کام نہیں مگر یہ حضرت صاحب ہی کی دلداری تھی جو آپ نے ایسا کیا۔537 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت صاحب آخری سفر میں لاہور تشریف لے جانے لگے تو آپ نے ان سے کہا کہ مجھے ایک کام در پیش ہے دُعا کرو اور اگر کوئی خواب آئے تو مجھے بتانا۔مبارکہ بیگم نے خواب دیکھا کہ وہ چوبارہ پر گئی ہیں اور وہاں حضرت مولوی نورالدین صاحب ایک کتاب لئے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں اور میں ابوبکر ہوں۔دوسرے دن صبح مبارکہ بیگم سے حضرت صاحب نے پوچھا کہ کیا کوئی خواب دیکھا ہے؟ مبارکہ بیگم نے یہ خواب سنائی تو حضرت صاحب نے فرمایا۔یہ خواب اپنی اماں کو نہ سُنانا۔مبارکہ بیگم کہتی ہیں کہ اس وقت میں نہیں سمجھی تھی کہ اس سے کیا مراد ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ خواب بہت واضح ہے اور اس سے یہ مراد تھی کہ حضرت صاحب کی وفات کا وقت آن پہنچا ہے اور یہ کہ آپ کے بعد حضرت مولوی صاحب خلیفہ ہوں گے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ کی عمر گیارہ سال کی تھی۔دوسری روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت صاحب اس سفر پر تشریف لے جاتے ہوئے بہت متامل تھے کیونکہ حضور کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ اسی سفر میں آپ کو سفر آخرت پیش آنے والا ہے۔مگر حضور نے سوائے اشارے کنایہ کے اس کا اظہار نہیں فرمایا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہماری ہمشیرہ کا یہ خواب غیر مبایعین کے خلاف بھی حجت ہے کیونکہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت کی طرف صریح اشارہ ہے۔538﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نورمحمد صاحب سا کن فیض اللہ چک نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آخری سفر میں لاہور جانے کا ارادہ فرمایا۔اور سامان اورسواری