سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 534 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 534

سیرت المہدی 534 حصہ سوم وغیرہ کا انتظام ہو چکا تو رات کو میاں شریف احمد صاحب کو بخار ہو گیا حضور کو رات کے وقت یہ الہام ہوا مباش ایمن از بازی روزگار جو آپ نے صبح کو سُنایا۔آپ نے حکم دیا۔کہ آج کا جانا ملتوی کر دو۔کل کو دیکھا جائے گا اور حضور علیہ السلام نے پہلے بھی لکھ دیا ہوا تھا کہ مجھ کو اللہ تعالے سے مطلع کیا جا چکا ہے کہ اب میری عمر قریب الاختتام ہے۔دوسرے روز حضور تشریف لے گئے اور وہاں لا ہور ہی حضور کا انتقال ہوا۔انسا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس فارسی الہام کے یہ معنی ہیں کہ زندگی کی چال سے امن میں نہ رہ کہ یہ دھوکہ دینے والی چیز ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ لاہور جا کر حضرت صاحب کو اپنی وفات کے متعلق اس سے بھی زیادہ واضح الہام ہوئے تھے۔مثلاً ایک الہام یہ تھا کہ مکن تکیه بر عمر ناپائدار یعنی اس نا پائدار عمر پر بھروسہ نہ کر کہ یہ اب ختم ہو رہی ہے۔اور ایک الہام جو غالباً آخری الہام تھا یہ تھا کہ الرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِيلُ یعنی اب کوچ کا وقت آ گیا ہے۔کوچ کا وقت آ گیا ہے۔اس الہام کے چار پانچ روز کے بعد آپ انتقال فرما گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - 533 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ سفر ملتان کے دوران میں حضرت صاحب ایک رات لاہور میں شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کے ہاں بطور مہمان ٹھہرے تھے۔ان دنوں لاہور میں ایک کمپنی آئی ہوئی تھی۔اس میں قدِ آدم موم کے بنے ہوئے مجسمے تھے۔جن میں بعض پُرانے زمانہ کے تاریخی بہت تھے اور بعض میں انسانی جسم کے اندرونی اعضاء طبی رنگ میں دکھائے گئے تھے۔شیخ صاحب مرحوم حضرت صاحب کو اور چند احباب کو وہاں لے گئے اور حضور نے وہاں پھر کر تمام نمائش دیکھی۔جانا پڑا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ملتان کا سفر ۱۸۹۷ء میں ہوا تھا۔اور حضور کو وہاں ایک شہادت کے لئے 540 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ حضرت صاحب کی زندگی کے آخری سالوں میں ایک شخص میاں کریم بخش نامی بیعت میں داخل ہوا اور قادیان میں ہی رہ پڑا یہ