سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 520 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 520

سیرت المہدی 520 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں امام الدین صاحب نے جو یہ کہا ہے کہ حضور کو دل کی بات کا علم ہو جا تا تھا۔اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ حضرت صاحب عالم الغیب تھے۔کیونکہ غیب کا علم صرف خدا کو حاصل ہے۔البتہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے تربیت کا کام لینا ہوتا ہے۔اس لئے بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسا تصرف فرماتا ہے کہ لوگوں کے دل میں جو خیالات کی روچل رہی ہوتی ہے۔اس سے انہیں اطلاع دے دی جاتی ہے۔507 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ انور محمد صاحب فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک دفعہ ماہ رمضان میں سحری کے وقت کسی شخص نے اصل وقت سے پہلے اذان دے دی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں تشریف لے آئے اور فرمایا کہ میں نے دودھ کا گلاس منہ کے قریب کیا ہی تھا کہ اذان کی آواز آئی۔اس لئے وہ گلاس میں نے وہیں رکھ دیا۔کسی شخص نے عرض کی۔کہ حضور ابھی تو کھانے پینے کا وقت ہے۔آپ نے فرمایا کہ ہمارا دل نہیں چاہتا کہ بعد اذان کچھ کھایا جائے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ یہ روایت اگر درست ہے۔تو حضور نے اس وقت اپنی ذات کے لئے یہ احتیاط برتی ہوگی۔ورنہ حضور کا طریق یہی تھا۔کہ وقت کا شمار اذان سے نہیں بلکہ سحری کے نمودار ہونے سے فرماتے تھے۔اور اس میں بھی اس پہلو کو غلبہ دیتے تھے کہ فجر واضح طور پر ظاہر ہو جاوے۔جیسا کہ قرآنی آیت کا منشاء ہے۔مگر بزرگوں کا قول ہے کہ فتویٰ اور ہے اور تقویٰ اور۔508 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک نوجوان عرب جو حافظ قرآن اور عالم تھا ، آکر رہا اور آپ کی تائید میں اس نے ایک عربی رسالہ بھی تصنیف کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی شادی کا فکر کیا۔میرے گھر کے ایک حصہ میں میرے استاد حافظ محمد جمیل صاحب مرحوم رہا کرتے تھے۔ان کی بیوی کی ایک ہمشیرہ نو جوان تھی۔حضرت صاحب نے ان کو رشتہ کے لئے فرمایا۔انہوں نے جواباً عرض کیا کہ لڑکی کے والد سے دریافت کرنا ضروری ہے۔لیکن میں حضور کی تائید کروں گا۔اتنے میں خاکسار حسب عادت قادیان گیا۔جب میں نے