سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 519
سیرت المہدی 519 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ حضرت صاحب عموماً بچہ کا نام رکھتے ہوئے قریبی رشتہ داروں کے ناموں کی مناسبت ملحوظ رکھتے تھے۔ہیں۔505 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرم ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی بعض اوقات ناموں سے نفاول لیتے تھے۔نیز تبرک کے طور پر لوگ آپ سے بچوں کے نام رکھوا لیتے تھے۔اور آپ اکثر اس بات کا خیال رکھتے تھے۔کہ باپ بیٹے کے نام میں یا بھائی بھائی کے نام میں مناسبت ہو۔نیز آپ عموماً بچوں کے نام رکھنے میں فاطمہ اور سعید نام نہ رکھتے تھے۔فاطمہ کے متعلق فرمایا کرتے تھے۔کہ اگر خواب میں بھی نظر آئیں تو بالعموم اس سے مراد ھم و غم ہوتا ہے۔کیونکہ حضرت فاطمہ کی تمام عمر رنج و تکالیف میں گزری اور سعید کے متعلق فرماتے تھے کہ ہم نے جس کا نام بھی سعید سُنا اُسے بالعموم برخلاف ہی پایا۔الا ماشاء الله - خاکسار عرض کرتا ہے کہ علم الرویاء میں حضرت فاطمہ کو دیکھنا د نیوی لحاظ سے تکالیف کا مظہر ہوتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ اُخروی لحاظ سے ضرور مبارک ہوگا۔کیونکہ حضرت فاطمہ سَيِّدَةُ نِسَاءِ الْجَنَّةَ اور سعید کے متعلق غالباً بعض نامبروں کے تلخ تجربہ سے حضور کو خیال پیدا ہو گیا ہوگا۔506 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی امام الدین صاحب سابق پٹواری حال محلہ دار الرحمت قادیان نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالے کی طرف سے یہ فراست دی گئی تھی کہ حضور علیہ السلام کو بعض دفعہ دوسرے شخص کی دل کی بات کا علم ہو جایا کرتا تھا۔جس وقت میرالڑ کا ظہوراحمد پیدا ہوا تو میں قادیان میں آیا۔مسجد مبارک میں چند دوست بیٹھے تھے۔میں نے ان سے ذکر کیا کہ میں چاہتا ہوں۔کہ میرے لڑکے کا نام حضور میرے بڑے لڑکے نثار احمد کے نام پر رکھیں لیکن میرا بھی یہی خیال تھا اور دوسرے احباب نے بھی کہا کہ حضور عمو ماً والد کے نام پر بچہ کا نام رکھتے ہیں۔اس لئے غالباً اب بھی حضور ایسا ہی کرینگے۔حافظ حامد علی صاحب نے حضور کو میرے آنے کی اطلاع دی اور بچہ کی پیدائش کا بھی ذکر کیا۔حضور مسکراتے ہوئے باہر تشریف لائے اور مجھے مبارکباددی اور فرمایا کہ اس کا نام ظہور احمد رکھیں۔