سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 515
سیرت المہدی 515 حصہ سوم علیہ السلام کی عادت میں داخل تھا کہ اپنے دوستوں سے مشورہ لیا کرتے تھے۔طبی معاملات میں حکیموں ڈاکٹروں سے۔قانونی باتوں میں وکلاء سے۔فقہی مسائل میں علماء سے۔مکان کی تعمیر ہو تو اوور سیروں یا راجوں مستریوں سے۔گھر کا معاملہ ہو تو اہل بیت سے۔اردو زبان کے کسی لفظ کے متعلق کوئی بات ہو۔تو ہماری والدہ صاحبہ اور میر صاحب مرحوم سے۔غرض آپ کی عادت تھی کہ چھوٹی بڑی ہر بات میں ایک یا زیادہ اہل لوگوں کو بلا کر مشورہ اور تبادلہ خیال کر لیا کرتے تھے۔اسی طرح بہت سے معاملات مجلس احباب میں بعد مشورہ طے پاتے تھے۔غرض آپ حتی الوسع ہر معاملہ میں مشورہ لیا کرتے تھے۔پھر جس بات پر انشراح ہو جاتا۔اُسے قبول کر لیا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بھی بہت کثرت سے مشورہ لیا کرتے تھے۔دراصل اسلامی نظام کی بنیاد ہی اولاً مشورہ اور بعدۂ توکل پر ہے۔495 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمداسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ حضور علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے۔اِتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللهِ۔یعنی مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور کی مدد سے دیکھتا ہے۔496 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے بعد جب باغ میں رہائش تھی تو ایک دن حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ آج ہم نے اپنی ساری جماعت کا جنازہ پڑھ دیا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ پورا واقعہ یوں ہے کہ ان ایام میں آپ نے جب ایک دفعہ کسی احمدی کا جنازہ پڑھا تو اس میں بہت دیر تک دُعا فرماتے رہے اور پھر نماز کے بعد فرمایا کہ ہمیں علم نہیں کہ ہمیں اپنے دوستوں میں سے کس کس کے جنازہ میں شرکت کا موقعہ ملے گا۔اس لئے آج میں نے اس جنازہ میں سارے دوستوں کے لئے جنازہ کی دُعا مانگ لی ہے اور اپنی طرف سے سب کا جنازہ پڑھ دیا ہے۔497 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ پیر منظور محمد