سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 514 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 514

سیرت المہدی 514 حصہ سوم میں پڑھ کر نماز کے لئے مسجد میں جاتے اور باجماعت نماز پڑھتے۔نماز کبھی خود کراتے کبھی میاں جان محمد امام مسجد کرا تا۔نماز سے آکر تھوڑی دیر کے لئے سو جاتے۔میں نے آپ کو مسجد میں سنت نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔سنت گھر پر پڑھتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ مرزا دین محمد صاحب مرزا نظام الدین صاحب کے برادر نسبتی ہیں۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے۔اور حضرت صاحب کے سخت مخالف تھے۔مرزا دین محمد صاحب ایک عرصہ سے احمدی ہو چکے ہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں جان محمد مرحوم امام مسجد تھا اور قوم کا کشمیری تھا۔نیک اور سادہ مزاج انسان تھا۔اور اکثر حضرت صاحب کی خدمت میں رہتا تھا۔492 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگر وال نے مجھ سے بیان کیا۔کہ جب میں حضرت صاحب کے پاس سوتا تھا۔تو آپ تہجد کے لئے نہیں جگاتے تھے۔مگر صبح کی نماز کے لئے ضرور جگاتے تھے اور جگاتے اس طرح تھے کہ پانی میں انگلیاں ڈبو کر اس کا ہلکا سا چھینٹا پھوار کی طرح پھینکتے تھے۔میں نے ایک دفعہ عرض کیا کہ آپ آواز دے کر کیوں نہیں جگاتے اور پانی سے کیوں جگاتے ہیں۔اس پر فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے اور فرمایا کہ آواز دینے سے بعض اوقات آدمی دھڑک جاتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق تھا کہ چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی آنحضرت یہ کی اتباع کرتے تھے۔493﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگر وال نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک دفعہ میں نے حضرت صاحب سے درخواست کی کہ مجھے کسی جگہ نو کر کرا دیں۔حضور نے فرمایا۔ہمارے واقفوں میں سے ایک ڈپٹی کلکٹر نہر ہیں ان سے سفارش کر دینگے۔مگر اس کے بعد میں خود ہی دوسری جگہ نوکر ہو گیا۔لیکن بالآخر نہر ہی کی طرف آگیا اور اٹھائیس سال ملازمت کی۔494 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ حضرت مسیح موعود