سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 512 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 512

سیرت المہدی 512 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی یہی طریق تھا۔487 بسم اللہ الرحمن الرحیم سیٹھی غلام نبی صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ جب آئینہ کمالات اسلام چھپ رہی تھی۔تو ان دنوں میں میں قادیان آیا اور جب میں جانے لگا تو وہ اسی (۸۰) صفحہ تک چھپ چکی تھی۔میں نے اس حصہ کتاب کو ساتھ لے جانے کے لئے عرض کیا۔اس پر مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے اعتراض کیا کہ جب تک کتاب مکمل نہ ہو، دی نہیں جاسکتی۔تب حضور نے فرمایا۔جتنی چھپ چکی ہے میاں غلام نبی صاحب کو دے دو۔اور لکھ لو کہ پھر اور بھیج دی جائے گی۔اور مجھے فرمایا کہ اس کو مشتہر نہ کرنا۔جب تک کہ مکمل نہ ہو جائے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ حضور کی شفقت تھی۔کہ اپنے مخلصین کی خواہش کو ر ڈ نہیں فرماتے تھے ور نہ حضور جانتے تھے کہ جب تک کوئی کتاب مکمل نہ ہو جائے اس کی اشاعت مناسب نہیں ہوتی اور بعض جہت سے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ سیٹھی غلام نبی صاحب اب فوت ہو چکے ہیں۔چکوال ضلع جہلم کے رہنے والے تھے اور راولپنڈی میں دکان کرتے تھے۔نہایت مخلص اور یک رنگ تھے۔488 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بابومحمد عثمان صاحب لکھنوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں ۱۹۱۸ء میں قادیان گیا تھا۔اور چونکہ لالہ بڈھا مل کا ذکر اکثر کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں موجود ہے۔اس لئے میں نے ان سے ملنا چاہا۔ایک دن بورڈنگ سے واپسی پر بازار میں اُسکے پاس گیا۔اور ایک دکان پر جا کر اس سے ملاقات کی۔میں نے کہا کہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اوائل عمر میں دیکھا ہے۔آپ نے ان کو کیسا پایا۔کہنے لگا۔کہ میں نے آج تک مسلمانوں میں اپنے نبی سے ایسی محبت رکھنے والا کوئی شخص نہیں دیکھا۔اس پر میں نے کہا۔کہ آپ نے ان کے دعوئی کو کیوں قبول نہ کیا۔اس کے جواب میں اس نے کہا۔یہ ذکر جانے دیجئے۔یہ لمبی بحث ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی کتب میں زیادہ ذکر لالہ ملاوامل اور لالہ شرمیت