سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 511 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 511

سیرت المہدی 511 حصہ سوم 484 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ان مسائل میں جن میں حلت وحرمت کا سوال در پیش ہوتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔کہ یہ یاد رکھنا چاہئے۔کہ شریعت نے اصل اشیاء کی حلت رکھی ہے۔سوائے اس کے جہاں حرمت کی کوئی وجہ ہو یا ظاہری حکم حرمت کا موجود ہو۔باقی إِنَّمَا الأعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ پر منحصر ہے۔نیت درست ہو تو عمل مقبول ہو جاتا ہے۔درست نہ ہو تو نا جائز ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ عام طریق تھا۔کہ سوائے ایسے مسائل کے جن میں شریعت نے کوئی تصریح کی ہو، اکثر صورتوں میں آپ الاعمال بالنیات پر بنیادرکھتے تھے۔اور مسائل کے جواب میں یہی فقرہ دُہرا دیتے تھے۔485 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک دفعہ حضور سے کسی بچہ نے پوچھا۔کہ کیا طوطا حلال ہے۔مطلب یہ تھا کہ ہم طوطا کھانے کے لئے مارلیا کریں۔حضور نے فرمایا۔میاں حلال تو ہے۔مگر کیا سب جانور کھانے کے لئے ہی ہوتے ہیں؟ مطلب یہ تھا کہ خدا نے سب جانور صرف کھانے ہی کے لئے پیدا نہیں کئے۔بلکہ بعض دیکھنے کے لئے اور دُنیا کی زینت اور خوبصورتی کے لئے بھی پیدا کئے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے بھی یہی فرمایا تھا کہ سارے جانور نہیں مارا کرتے کیونکہ بعض جانور خدا نے زینت کے طور پر پیدا کئے ہیں۔لیکن خاکسار کی رائے میں کسی جانور کی کثرت ہو کر فصلوں وغیرہ کے نقصان کی صورت ہونے لگے تو اس کا انسداد کرنا اس ہدایت کے خلاف نہیں ہے۔486 بسم اللہ الرحمن الرحیم سیٹھی غلام نبی صاحب مرحوم نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک دفعہ میں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور نماز میں آنکھیں کھول ر توجہ قائم نہیں رہتی۔اس کے متعلق کیا حکم ہے فرمایا کہ آنکھوں کو خوابیدہ رکھا کرو۔