سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 510
سیرت المہدی 510 حصہ سوم سے کندھا ملایا۔تو اس وقت دونوں برابر برابر رہے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ یہ اوائل زمانہ کا رویاء ہوگا۔کیونکہ بعد میں تو آپ کو وہ روحانی مرتبہ حاصل ہوا کہ امت محمدیہ میں آپ سب پر سبقت لے گئے۔جیسا کہ آپ کا یہ الہام بھی ظاہر کرتا ہے کہ آسمان سے کئی تخت اُترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔اور آپ نے صراحت کے ساتھ لکھا بھی ہے کہ مجھے اس امت کے جملہ اولیاء پر فضیلت حاصل ہے۔482 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب کوئی نظم لکھتے اور ایسے موقعہ پر کسی اردو لفظ کی تحقیق منظور ہوتی۔تو بسا اوقات حضرت ام المومنین سے اس کی بابت پوچھتے تھے۔اور زیادہ تحقیق کرنی ہوتی تو حضرت میر صاحب یا والدہ صاحبہ سے بھی پوچھا کرتے تھے۔کہ یہ لفظ کس موقعہ پر بولا جاتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت والدہ صاحب چونکہ دہلی کی تھیں اس لئے روز مرہ کے اردو محاوروں میں انہیں زیادہ مہارت تھی۔جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فائدہ اٹھا لیتے تھے مگر یہ استعانت صرف روزمرہ کے محاورہ تک محدود تھی۔ورنہ علمی زبان میں تو حضرت صاحب کو خود کمال حاصل تھا۔483 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضور فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت کے لوگوں کو عربی زبان سیکھنی چاہئے اور صحیح طریق کسی زبان کے سیکھنے کا یہ نہیں ہے کہ پہلے صرف و نحو پڑھی جائے۔بلکہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اُسے بولا جائے۔بولنے سے ضروری صرف و نحو خود آجاتی ہے۔چنانچہ اسی لئے اس خاکسار کو ۱۸۹۵ء میں حضرت صاحب نے قریباً ایک ہزار فقرہ عربی کا مع ترجمہ کے لکھوایا۔روزانہ پندرہ بیس کے قریب فقرے لکھوا دیتے۔اور دوسرے دن سبق سُن کر اور لکھوا دیتے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ طریق غالبا صرف بولنے اور عام استعداد پیدا کرنے کے لئے ہے۔ور نہ علمی طور پر عربی زبان کی مہارت کے لئے صرف ونحو کا علم ضروری ہے۔