سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 509
سیرت المہدی 509 حصہ سوم میں معنوی مشابہت بھی ہے۔واللہ اعلم۔479 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک دفعہ میں گھوڑی سے گر پڑا۔اور میری داہنی کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔اس لئے یہ ہاتھ کمزور ہو گیا تھا۔کچھ عرصہ بعد میں قادیان میں حضور کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔حضور نے پوچھا۔شاہ صاحب آپ کا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ کلائی کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے میرے ہاتھ کی انگلیاں کمزور ہوگئی ہیں اور اچھی طرح مٹھی بند نہیں ہوتی۔حضور دعا فرمائیں کہ پنجہ ٹھیک ہو جائے۔مجھ کو یقین تھا کہ اگر حضور نے دعا فرمائی تو شفا بھی اپنا کام ضرور کرے گی۔لیکن بلا تامل حضور نے فرمایا۔کہ شاہ صاحب ہمارے مونڈھے پر بھی ضرب آئی تھی جس کی وجہ سے اب تک وہ کمزور ہے۔ساتھ ہی حضور نے مجھے اپنا نشانہ نگا کر کے دکھایا اور فرمایا کہ آپ بھی صبر کریں۔پس اس وقت سے وہی ہاتھ کی کمزوری مجھ کو بدستور ہے اور میں نے سمجھ لیا کہ اب یہ تقدیر ٹلنے والی نہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب اپنے اصحاب سے کس قدر بے تکلف تھے کہ فوراً اپنے شانہ نگا کر کے دکھا دیا۔تا کہ شاہ صاحب اسے دیکھ کر تسلی پائیں۔480 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب سا کن فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا کہ بعض لوگ بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود سے پوچھتے تھے۔کہ یا حضرت! ہم کونسا وظیفہ پڑھا کریں؟ تو حضور فرماتے کہ الحمد للہ اور درود شریف اور استغفار اور دُعا پر مداومت اختیار کرو اور دعا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کثرت سے پڑھا کرو۔481 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک مرتبہ دیکھا کہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی آئے ہیں اور آپ نے پانی گرم کرا کر مجھے غسل دیا ہے اور نئی پوشاک پہنائی ہے اور گول کمرہ کی سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ آؤ ہم اور تم برابر برابر کھڑے ہو کر قد نا ہیں۔پھر انہوں نے میرے بائیں طرف کھڑے ہو کر کندھے