سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 508
سیرت المہدی 508 حصہ سوم حضور کی زبان پر اکثر جاری رہتے تھے۔چنانچہ فرمایا کرتے تھے۔الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ - لَا يُلْدَعُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ۔بے حیا باش و ہر چہ خواہی کن۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے فقرہ نمبر۲ کا ترجمہ بھی اکثر سُنا ہے یعنی مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں کاٹا جاتا۔477 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمداسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عورتوں سے بیعت صرف زبانی لیتے تھے۔ہاتھ میں ہاتھ نہیں لیتے تھے۔نیز آپ بیعت ہمیشہ اُردو الفاظ میں لیتے تھے۔مگر بعض اوقات دہقانی لوگوں یا دیہاتی عورتوں سے پنجابی الفاظ میں بھی بیعت لے لیا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث سے پتہ لگتا ہے۔کہ آنحضرت بھی عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے اُن کے ہاتھ کو نہیں چھوتے تھے۔دراصل قرآن شریف میں جو یہ آتا ہے کہ عورت کو کسی غیر محرم پر اظہار زینت نہیں کرنا چاہئے۔اسی کے اندریس کی ممانعت بھی شامل ہے۔کیونکہ جسم کے چھونے سے بھی زینت کا اظہار ہو جاتا ہے۔478 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب مرحوم نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ یہ جو اَسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّي مِنْ كُلَّ ذَنْبٍ وَّاَتُوبُ الیہ پڑھنے کا کثرت سے حکم آیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ انسانی کمزوریوں اور غلطیوں کی وجہ سے انسان کو گویا ایک ڈنسب یعنی دم لگ جاتی ہے جو کہ حیوانی عضو ہے۔اور یہ انسان کے لئے بدنما اور اس کی خوبصورتی کے لئے ناموزوں ہے۔اس واسطے حکم ہے کہ انسان بار بار یہ دعا مانگے اور استغفار کرے تا کہ اس حیوانی دُم سے بچ کر اپنی انسانی خوبصورتی کو قائم رکھ سکے اور ایک مکرم انسان بنا رہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس روایت میں غالباً یہ لفظی لطیفہ بھی مد نظر ہے کہ ذنب یعنی گناہ حقیقةً ایک دنب یعنی دم ہے۔جو انسان کی اصلی فطرت کے خلاف اس کے ساتھ لاحق ہو جاتی ہے۔گویا جس طرح ذنب اور ڈنب یعنی دُم کے الفاظ اپنی ظاہری صورت میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔اسی طرح ان