سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 507 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 507

سیرت المہدی 507 حصہ سوم ہے کہ یہ شخص مسمی رام سنگھ جو پہلی بیعت میں شامل تھا وہ نو مسلم تھا اور اس کا اسلامی نام شیخ عبدالعزیز تھا۔اس وقت وہ فوت ہو چکا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ غالبا بیعت کے وقت وہ نیا نیا مسلمان ہوا ہو گا۔اس لئے شناخت کے لئے سابقہ نام ہی لکھ دیا گیا۔واللہ اعلم۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیعت کنندگان کے رجسٹر سے جو مجھے مکرم میر محمد اسحاق صاحب کے ذریعہ دستیاب ہوا ہے یہ ظاہر نہیں ہوتا۔کہ آیا بیعت کے وقت ہی اس رجسٹر میں فوراً اندراج کر لیا جاتا تھا۔یا کہ بیعت کے بعد چند اسماء ا کٹھے درج کر لئے جاتے تھے۔مؤخر الذکر صورت میں اس بات کا امکان ہے کہ بوقت اندراج اصل ترتیب سے کسی قدر اختلاف ہو جاتا ہو۔بلکہ بعض اندراجات سے شبہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات ایسا ہو جاتا تھا۔کیونکہ بعض صورتوں میں زبانی روایات اور رجسٹر کے اندراج میں کافی اختلاف ہے۔اور مولوی عبداللہ صاحب سنوری کے سامنے کا نوٹ بھی یہی ظاہر کرتا ہے۔واللہ اعلم۔475 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار کے حقیقی ماموں ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بیعت کرنے کے بعد سوال کیا کرتے تھے۔کہ حضور کسی وظیفہ وغیرہ کا ارشاد فرماویں۔اس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر یوں فرمایا کرتے تھے۔کہ نماز سنوار کر پڑھا کریں۔اور نماز میں اپنی زبان میں دعا کیا کریں۔اور قرآن شریف بہت پڑھا کریں۔نیز آپ وظائف کے متعلق اکثر فرمایا کرتے تھے۔کہ استغفار کیا کریں۔سورۃ فاتحہ پڑھا کریں۔درود شریف پر مداومت کریں۔اسی طرح لاحول اور سبحان اللہ پر مواظبت کریں۔اور فرماتے تھے۔کہ بس ہمارے وظائف تو یہی ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام منتر جنتر کی طرح وظائف کے قائل نہ تھے۔بلکہ صرف دُعا اور ذکر الہی کے طریق پر بعض فقرات کی تلقین فرماتے تھے۔476 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ بعض خاص فقرات