سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 506 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 506

سیرت المہدی 506 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ جیسا کہ روایت نمبر ۹۸ میں بیان کیا جا چکا ہے پہلی بیعت بمقام لدھیانہ ہوئی تھی۔جس میں مطابق روایات چالیس اشخاص نے یکے بعد دیگرے بیعت کی تھی۔پہلے آٹھ نام جو اس رجسٹر سے ضائع ہو چکے ہیں۔ان میں حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول کا نام مسلمہ طور پر اول نمبر پر تھا اور دوسرے نمبر پر میر عباس علی صاحب کا نام تھا۔باقی ناموں کے متعلق قطعی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔مگر قاضی خواجہ علی صاحب کے نمبر کے متعلق میر عنایت علی صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے خاکسار سے متفقہ طور پر بیان کیا ہے۔کہ قاضی خواجہ علی صاحب موصوف کا نمبر آٹھ تھا۔اور نمبر چار پر محمد حسین صاحب خوشنویس کا نام تھا۔جیسا کہ مندرجہ بالا فہرست کے اندراج نمبر 1 میں مذکور ہے۔اور باقی ناموں کی ترتیب قیاساً درج کی گئی ہے۔واللہ اعلم۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس فہرست میں جو ایک ہندو کا نام درج ہے۔اس سے تعجب نہیں کرنا چاہئے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ قاعدہ تھا کہ اگر کوئی شخص عقیدت اور اخلاص سے بیعت کی استدعا کرتا تھا اور ساتھ ہی اپنے بعض عقائد کی نسبت مجبوری بھی ظاہر کرتا تھا کہ وہ انہیں فی الحال نہیں چھوڑ سکتا تو آپ اس کی بیعت قبول کر لیتے تھے جو گویا ایک گونہ محدود اور مشروط قسم کی بیعت ہوتی تھی۔مگر بسا اوقات ایسا شخص بعد میں جلدی ہی پوری طرح صاف ہو جایا کرتا تھا۔پس یہ جو اس فہرست میں ہندو کا نام درج ہے۔یہ اگر کو ئی مخفی نومسلم نہیں ہے تو ممکن ہے کہ کوئی ایسی ہی صورت ہو۔چنانچہ نواب محمدعلی خان صاحب نے بھی ابتدا میں اس عہد کے ساتھ بیعت کی تھی کہ وہ بدستور شیعہ عقیدہ پر قائم رہیں گے۔مگر بیعت کے بعد جلد ہی شیعیت کا داغ دھل گیا۔اور سُنا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے بھی جب بیعت کی تو اس کے کچھ عرصہ بعد تک نیچریت کے دلدادہ رہے۔مگر آخر مسیحی نور کے سامنے یہ تاریکی قائم نہ رہ سکی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کے متعلق خود فرماتے ہیں۔مد تے در آتش نیچر فرو افتاده بود ایں کرامت ہیں که از آتش بروں آمد سلیم خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس نوٹ کے لکھنے کے بعد مجھے مکرم میر عنایت علی صاحب سے معلوم ہوا