سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 487
سیرت المہدی 487 حصہ دوم بات بھی روایت کے رو سے میں نے قابل قبول پائی ہے اور درایت کے رو سے بھی اسے حضرت مسیح موعود کی صریح اور اصولی اور غیر اختلافی اور محکم تحریرات کے خلاف نہیں پایا۔اور آپ کے مسلم اور غیر مشکوک اور واضح اور روشن طریق عمل کے لحاظ سے اسے قابل رد نہیں سمجھا۔اسے میں نے لے لیا ہے مگر بایں ہمہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ گوشاید احتیاط اسی میں ہو جو میں نے کیا ہے۔لیکن بحیثیت مجموعی روایات کے جمع کرنے والے کیلئے مناسب یہی ہے کہ وہ صرف اصول روایت تک اپنی نظر کو محد و در کھے۔اور جو روایت بھی روایت کے اصول کے مطابق قابل قبول ہوا سے درج کرلے اور درایت کے میدان میں زیادہ قدم زن نہ ہو بلکہ اس کام کو ان لوگوں کیلئے چھوڑ دے جو عند الضرورت استدلال و استنباط کے طریق پر انفرادی روایات کو زیر بحث لاتے ہیں۔والا نتیجہ یہ ہوگا کہ شخصی اور انفرادی عقیدے یا ذاتی مذاق کے خلاف ہونے کی وجہ سے بہت سی کچی اور مفید روایات چھوٹ جائیں گی اور دنیا ایک مفید ذخیرہ علم سے محروم رہ جائے گی۔یہ میری دیانتداری کی رائے ہے اور میں ابھی تک اپنی اس رائے پر اپنے خیال کے مطابق علی وجہ البصیرت قائم ہوں۔والله اعلم ولا علم لنا الا ما علمتنا خاکسار مرزا بشیر احمد قادیان ۱۴/ نومبر ۱۹۲۷ء