سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 43 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 43

سیرت المہدی 43 حصہ اوّل اخباروں نے آپ کے متعلق نوٹ لکھے انہوں نے بھی اسی نام سے آپ کا ذکر کیا۔اگر باوجود اس عظیم الشان شہادت کے کسی معاند کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام غلام احمد نہیں تھا۔بلکہ سندھی یا کچھ اور تھا۔تو اس کا ہمارے پاس اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ لعنت اللہ علی الکاذبین) اس ضمن میں روایات نمبر ۴۴۲۵، ۹۸، ۱۲۹ ۱۳۴۰ ۴۱۲ اور ۴۳۸ بھی قابل ملاحظہ ہیں جن سے اس بحث پر مزید روشنی پڑتی ہے۔52 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے جھنڈا سنگھ ساکن کا لہواں نے کہ میں بڑے مرزا صاحب کے پاس آیا جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ مجھے بڑے مرزا صاحب نے کہا کہ جاؤ غلام احمد کو بلالا ؤ ایک انگریز حاکم میرا واقف ضلع میں آیا ہے اس کا منشاء ہو تو کسی اچھے عہدہ پر نو کر کرا دوں۔جھنڈا سنگھ کہتا تھا کہ میں مرزا صاحب کے پاس گیا تو دیکھا چاروں طرف کتابوں کا ڈھیر لگا کر اس کے اندر بیٹھے ہوئے کچھ مطالعہ کر رہے ہیں۔میں نے بڑے مرزا صاحب کا پیغام پہنچا دیا۔مرزا صاحب آئے اور جواب دیا ” میں تو نوکر ہو گیا ہوں“ بڑے مرزا صاحب کہنے لگے کہ اچھا کیا واقعی نوکر ہو گئے ہو ؟ مرزا صاحب نے کہا ہاں ہو گیا ہوں۔اس پر بڑے مرزا صاحب نے کہا اچھا اگر نو کر ہو گئے ہو تو خیر ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ کا لہواں قادیان سے جنوب کی طرف دو میل کے فاصلہ پرا یک گاؤں ہے اور نوکر ہونے سے مراد خدا کی نوکری ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ جھنڈا سنگھ کئی دفعہ یہ روایت بیان کر چکا ہے اور وہ قادیان کی موجودہ ترقی کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود کا بہت ذکر کیا کرتا ہے اور آپ سے بہت محبت رکھتا ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے دادا صاحب کو بوجہ خاندان میں سب سے بڑا اور معزز ہونے کے عام طور پر لوگ بڑے مرزا صاحب کہا کرتے تھے چنانچہ خود حضرت مسیح موعود بھی عموما ان کے متعلق یہی الفاظ فرماتے تھے۔53 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود صدقہ بہت دیا کرتے تھے اور عموماً ایسا خفیہ دیتے تھے کہ ہمیں بھی پتہ نہیں لگتا تھا۔خاکسار نے دریافت کیا کہ کتنا صدقہ