سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 483 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 483

سیرت المہدی 483 حصہ دوم ان کا جنازہ پڑھ لینا حضرت مسیح موعود کے طریق عمل کے خلاف نہیں۔اب اس حالت میں ڈاکٹر صاحب کے پیش کردہ اصول پر اندھا دھند عمل کرنے کا نتیجہ سوائے اسکے اور کیا ہوسکتا ہے کہ اگر کسی مبائع کو کوئی ایسی روایت پہنچے کہ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض حالتوں میں غیروں کا جنازہ پڑھ لیتے تھے۔یا پڑھنا پسند فرماتے تھے تو وہ اسے رڈ کر دیتے کیونکہ بقول اس کے یہ بات حضرت کے طریق عمل کے خلاف ہے۔اور جب کوئی روایت کسی غیر مبائع کو ایسی ملے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام غیروں کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے یا پڑھنا پسند نہیں فرماتے تھے تو خواہ یہ روایت اصول روایت کے لحاظ سے کیسی ہی پختہ اور مضبوط ہو۔وہ اسے ردی کی ٹوکری میں ڈال دے کیونکہ بقول اس کے یہ روایت حضرت صاحب کے طریق عمل کے خلاف ہے۔ناظرین خود غور فرمائیں کہ اس قسم کی کارروائی کا سوائے اس کے اور کیا نتیجہ ہو سکتا ہے کہ علم کی ترقی کا دروازہ بند ہو جائے اور ہر شخص اپنے دماغ کی چار دیواری میں ایسی طرح محصور ہو کر بیٹھ جائے کہ باہر کی ہوا اسے کسی طرح بھی نہ پہنچ سکے۔اور اس کا معیار صداقت صرف یہ ہو کہ جو خیالات وہ اپنے دل میں قائم کر چکا ہے ان کے خلاف ہراک بات خواہ وہ کیسی ہی پختہ اور قابل اعتماد ذرائع سے پایہ ثبوت کو پہنچی ہوئی ہو رڈ کئے جانے کے قابل ہے کیونکہ وہ اس کی درایت کے خلاف ہے۔مکرم ڈاکٹر صاحب! مجھے آپ کے بیان سے اصولی طور پر اتفاق ہے مگر میں افسوس کرتا ہوں کہ آپ نے اس مسئلہ کے عملی پہلو پر کما حقہ غور نہیں فرمایا۔ورنہ آپ درایت کے ایسے دلدادہ نہ ہو جاتے کہ اس کے مقابلہ میں ہر قسم کی روایت کورڈ کئے جانے کے قابل قرار دیتے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ ٹھنڈے دل سے غور فرما ئیں تو آپ کو معلوم ہو کہ اصل چیز جس پر بنیاد رکھی جانی چاہیے وہ روایت ہی ہے۔اور علم تاریخ کا سارا دارو مدار اسی اصل پر قائم ہے اور درایت کے اصول صرف بطور زوائد کے روایت کو مضبوط کرنے کیلئے وضع کئے گئے ہیں اور آج تک کسی مستند اسلامی مؤرخ نے ان پر ایسا اعتماد نہیں کیا کہ ان کی وجہ سے صحیح اور ثابت شدہ روایات کر ترک کر دیا ہو۔متقدمین کی تصنیفات تو قریباً قریباً کلیۂ صرف اصول روایت پر ہی مبنی ہیں اور درایت کے اصول کی طرف انہوں نے بہت کم توجہ کی