سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 481
سیرت المہدی 481 حصہ دوم را وی صادق القول ہے تو یا تو اس کے حافظہ نے غلطی کھائی ہے اور یا وہ بات کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکا۔اس لئے روایت کرنے میں ٹھو کر کھا گیا ہے۔اور یا کوئی اور اس قسم کی غلطی واقع ہو گئی ہے۔جس کی وجہ سے حقیقت امر پر پردہ پڑ گیا ہے۔واقعی زبانی روایات سے سوائے اس کے کہ وہ تواتر کی حد کو پہنچ جائیں صرف علم غالب حاصل ہوتا ہے اور یقین کامل اور قطعیت تامہ کا مرتبہ ان کوکسی صورت میں نہیں دیا جاسکتا۔پس لامحالہ اگر کوئی زبانی روایت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے ثابت شدہ طریق عمل اور آپکی مسلم تعلیم اور آپ کی غیر مشکوک تحریرات کے خلاف ہے تو کوئی عقل مند ا سے قبول کرنے کا خیال دل میں نہیں لا سکتا اور اس حد تک میرا ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اتفاق ہے لیکن بایں ہمہ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ عملاً یہ معاملہ ایسا آسان نہیں ہے جیسا کہ ڈاکٹر صاحب موصوف نے سمجھ رکھا ہے۔درایت کا معاملہ ایک نہایت نازک اور پیچیدہ معاملہ ہے اور اس میں جرات کے ساتھ قدم رکھنا سخت ضرر رساں نتائج پیدا کر سکتا ہے۔دراصل جہاں بھی استدلال و استنباط اور قیاس و استخراج کا سوال آتا ہے وہاں خطر ناک احتمالات و اختلافات کا دروازہ بھی ساتھ ہی کھل جاتا ہے۔ایک مشہور مقولہ ہے کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔اور دنیا کے تجربہ نے اس مقولہ کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔جہاں تک مشاہدہ اور واقعہ کا تعلق ہے وہاں تک تو سب متفق رہتے ہیں اور کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوتا۔والشاذ كالمعدوم۔لیکن جونہی کہ کسی مشاہدہ یا واقعہ سے استدلال و استنباط کرنے اور اس کا ایک مفہوم قرار دے کر اس سے استخراج نتائج کرنے کا سوال پیدا ہوتا ہے پھر ہر شخص اپنے اپنے راستہ پر چل نکلتا ہے اور حق و باطل میں تمیز کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔پس یہ بات منہ سے کہہ دینا تو بہت آسان ہے کہ جو روایت حضرت مسیح موعود کے طریق عمل کے خلاف ہو اسے رد کر دو یا جو بات حضرت کی تحریرات کے خلاف نظر آئے تو اسے قبول نہ کرو اور کوئی عقل مند اصولاً اس کا منکر نہیں ہوسکتا۔لیکن اگر ذرا غور سے کام لے کر اس کے عملی پہلو پر نگاہ کی جائے تب پتہ لگتا ہے کہ یہ جرح و تعدیل کوئی آسان کام نہیں ہے اور ہر شخص اس کی اہلیت نہیں رکھتا کہ روایات کو اس طرح اپنے استدلال و استنباط کے سامنے کاٹ کاٹ کر گرا تا چلا جائے۔بیشک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طریق عمل