سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 469 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 469

سیرت المہدی 469 حصہ دوم ہوتے ہیں۔جن سے ان کے صادق و کاذب، عادل و غیر عادل، حافظ و غیر حافظ ہونے کا پتہ چلتا ہے۔اور انہیں کتب کی بنا پر لوگ روایت کے لحاظ سے احادیث کے صحیح یا غیر صحیح، مضبوط یا مشتبہ ہونے کے متعلق بحثیں کرتے ہیں۔مگر میرے خلاف ڈاکٹر صاحب کو نہ معلوم کیا ناراضگی ہے کہ وہ اس بات میں بھی مجھے مجرم قرار دے رہے ہیں۔کہ میں نے کیوں سیرۃ المہدی کے اندر ہی اس کے راویوں کے حالات درج نہیں کئے۔حق یہ تھا کہ اگر ان کو سیرۃ المہدی کا کوئی راوی مشتبہ یا قابل اعتراض نظر آتا تھا تو وہ اس کا نام لے کر بیان فرماتے اور پھر میرا فرض تھا کہ یا تو میں اس راوی کا ثقہ و عادل ہونا ثابت کرتا اور یا اس بات کا اعتراف کرتا کہ ڈاکٹر صاحب کا اعتراض درست ہے۔اور وہ راوی واقعی اس بات کا اہل نہیں کہ اس کی روایت قبول کی جاوے مگر یونہی ایک مجمل اعتراض کا میں کیا جواب دے سکتا ہوں۔سوائے اس کے کہ میں یہ کہوں کہ میں نے جن راویوں کو ان کی روایت کا اہل پایا ہے صرف انہی کی روایت کو لیا ہے اور بس۔روایت کے لحاظ سے عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا (۱) راوی جھوٹ بولنے سے متہم تو نہیں؟ (۲) اس کے حافظہ میں تو کوئی قابل اعتراض نقص نہیں؟ (۳) وہ سمجھ کا ایسا ناقص تو نہیں کہ بات کا مطلب ہی نہ سمجھ سکے۔گو یہ ضروری نہیں کہ وہ زیادہ فقیہہ ہو۔(۴) وہ مبالغہ کرنے یا خلاصہ نکال کر روایت کرنے یا بات کے مفہوم کو لیکر اپنے الفاظ میں آزادی کے ساتھ بیان کر دینے کا عادی تو نہیں؟ (۵) اس خاص روایت میں جس کا وہ راوی ہے اسے کوئی خاص غرض تو نہیں؟ (1) وہ ایسا مجہول الحال تو نہیں کہ ہمیں اس کے صادق و کاذب ، حافظ وغیر حافظ ہونے کا کوئی پتہ ہی نہ ہو۔وغير ذالک اور جہاں تک میر اعلم اور طاقت ہے میں نے ان تمام باتوں کو اپنے راویوں کی چھان بین میں علی قدر مراتب ملحوظ رکھا ہے۔واللہ اعلم۔اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ میرے سامنے کوئی مثال نہیں ہے۔