سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 459
سیرت المہدی 459 حصہ دوم دیں۔ورنہ میں مثالیں دے کر بتاتا کہ سیرۃ المہدی کی وہ روایات جو بظاہر غیر متعلق نظر آتی ہیں۔دراصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے گہرا تعلق رکھتی ہیں لیکن اگر اب بھی ڈاکٹر صاحب کی تسلی نہ ہو تو میں ایک سہل علاج ڈاکٹر صاحب کیلئے پیش کرتا ہوں اور وہ یہ کہ میں سیرت ابن ہشام اور اسی قسم کی دیگر معروف کتب سیر سے چند باتیں ایسی نکال کر پیش کرونگا جن کا بظاہر آنحضرت ﷺ کی سیرۃ سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا اور پھر جو تعلق ڈاکٹر صاحب موصوف ان باتوں کا آنحضرت ﷺ کی سیرۃ سے ثابت کریں گے۔میں انشاء اللہ اتناہی بلکہ اس سے بڑھ کر تعلق سیرۃ المہدی کی ان روایات کا حضرت مسیح موعود کی سیرت سے ثابت کر دونگا جن کو ڈاکٹر صاحب غیر متعلق قرار دیں گے۔خلاصہ کلام یہ کہ کیا بلحاظ اس کے کہ سیرت کے مفہوم کو بہت وسعت حاصل ہے۔اور مورخین اسکو عملاً بہت وسیع معنوں میں لیتے رہے ہیں اور کیا بلحاظ اس کے کہ ہمارے دل کی یہ آرزو ہے کہ حضرت مسیح موعود کی کوئی بات ضبط تحریر میں آنے سے نہ رہ جائے اور کیا بلحاظ اس کے کہ ممکن ہے کہ آج ہمیں ایک بات لاتعلق نظر آوے مگر بعد میں آنیوالے لوگ اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔اور کیا بلحاظ اس کے میں نے اپنی کتاب کے شروع میں یہ بات لکھ دی تھی کہ میں حضرت مسیح موعود کے متعلق ہر قسم کی روایات اس مجموعہ میں درج کر نیکا ارادہ رکھتا ہوں اور کیا بلحاظ اس کے کہ میں نے خود اپنی کتاب کے دیباچہ میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ اس کتاب میں بعض روایات لاتعلق نظر آئیں گی لیکن استدلال و استنباط کے وقت ان کا تعلق ثابت کیا جا سکے گا۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کو اس اعتراض کا حق حاصل نہیں تھا اور مجھے افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے سراسر تعدی کے ساتھ مجھے غیر منصفانہ اعتراض کا نشانہ بنایا ہے۔دوسرا اصولی اعتراض جو ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے سیرۃ المہدی کے متعلق کیا ہے وہ یہ ہے کہ گو کتاب کے دیباچہ میں یہ لکھا گیا ہے کہ فی الحال روایات کو صرف جمع کر دیا گیا ہے اور ترتیب اور استنباط و استدلال بعد میں ہوتا رہے گا۔لیکن عملاً خوب دل کھول کر بخشیں کی گئی ہیں۔اور جگہ جگہ استدلال و استنباط سے کام لیا گیا ہے۔چنانچہ ڈاکٹر صاحب موصوف فرماتے ہیں۔