سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 441
سیرت المہدی 441 حصہ دوم 466 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے مجھے ایک کاغذ کی تلاش کے لئے اپنے پرانے بستے دیکھنے کے لئے دیئے وہ کا غذ تو نہ ملالیکن اس بستہ میں مجھے لالہ ملا وامل کے پرانے خطوط دستیاب ہوئے جو اس نے طالب علمی کے زمانہ میں حضرت صاحب کے نام دینی مسائل کی دریافت کے متعلق لکھے تھے اور ایک جگہ حضرت صاحب کا اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا یہ الہام ملا۔بر تر گمان و وہم سے احمد کی شان ہے جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے لیکن تعجب ہے کہ آج کل در مشین میں اس کا “ کی بجائے جس کا چھپا ہوا ہے نیز ایک بستہ میں مجھے ایک پر چہ ملا جس پر حضور کا اپنا تخطی یہ مضمون لکھا ہوا تھا کہ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ (البقرة : ۵) سے یہ مراد ہے کہ جولوگ اس وحی پر ایمان لاتے ہیں جو تجھ پر نازل کی گئی ہے اور اس وحی پر جو تجھ سے پہلے نازل ہوئی ہے اور اس وحی پر بھی یقین رکھتے ہیں جو آخری زمانہ میں مسیح موعوڈ پر نازل ہوگی۔467 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب سا کن فیض اللہ چک نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان فرمایا کہ میں نے سُنا ہے کہ ایک دفعہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ کیا کبھی حضور کو بھی ریا پیدا ہوتا ہے حضور نے فرمایا اگر آپ چار پائیوں کے اندر کھڑے ہوں تو کیا آپ کو ریا پیدا ہو؟ پھر فرمایا کہ ریا تو اپنی جنس میں ہوتا ہے۔مطلب یہ کہ انبیاء اپنے روحانی کمال کی وجہ سے گویا دوسرے لوگوں کی جنس سے باہر ہوتے ہیں اور دنیا سے کٹ کر ان کا آسمان کے ساتھ پیوند ہو جاتا ہے۔پس وہ اہل دنیا کے اندر ریا نہیں محسوس کرتے۔468 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب متوطن فیض اللہ چک نے مجھ سے تحریری طور پر بیان کیا کہ میں نے حافظ حامد علی صاحب مرحوم سے سُنا ہے کہ حضرت اقدس نے فرمایا ہے اگر کبھی کسی مقدمہ