سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 437 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 437

سیرت المہدی 437 حصہ دوم تنگ ہو رہا تھا ہم نماز پڑھنے کیلئے بڑی مسجد میں چلے گئے۔وہاں ہم نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکیلے ٹہل رہے تھے اور آپ کے ہاتھ میں کوئی کتاب تھی۔جب ہم نماز سے فارغ ہو چکے تو حضرت صاحب نے ہم سے پنجابی زبان میں پوچھا۔لڑکو! تمہارا گھر کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا کہ گل منبج میں ہے۔جس پر آپ نے ہم سے گل منبج کا فاصلہ دریافت کیا۔اور میں نے عرض کیا کہ قادیان سے چار پانچ میل پر ہے۔پھر حضرت صاحب نے فرمایا کہ کیا تمہارے گاؤں میں میری کتاب پہنچ گئی ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ وہاں تو کوئی کتاب نہیں گئی۔حضرت صاحب نے فرمایا دور دراز جگہوں میں تو وہ پہنچ گئی ہے تجب ہے تمہارے گاؤں میں نہیں پہنچی۔تم میرے ساتھ چلو میں تمہیں کتاب دیتا ہوں۔سوحضرت صاحب ہم دونوں کو لے کر مسجد مبارک کے ساتھ والی کوٹھری میں تشریف لے گئے۔وہاں بہت کتا ہیں رکھی تھیں۔حضرت صاحب نے دریافت فرمایا تمہارے گاؤں میں کتنے آدمی پڑھے ہوئے ہیں۔میں نے زیادہ کتابوں کے لالچ سے کہہ دیا کہ آٹھ نو آدمی پڑھے لکھے ہیں۔حالانکہ صرف چار پانچ آدمی پڑھے ہوئے تھے۔ان دنوں میں میں تیسری جماعت میں پڑھا کرتا تھا۔اسکے بعد تمام علاقہ میں حضرت صاحب کا چرچا ہونے لگ گیا کہ قادیان والا مرزا مہدی اور مسیح ہو نی کا دعوی کرتا ہے۔اور میں نے جلد ہی بیعت کر لی۔461 ) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عنایت علی صاحب لدھیانوی نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت اقدس معہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اور غلام قادر صاحب فصیح لدھیانہ محلہ اقبال گنج میں تشریف رکھتے تھے۔دعویٰ مسیحیت ہو چکا تھا اور مخالفت کا زور تھا اور مولوی محمد حسین بٹالوی حضور کے مقابلہ میں آکر شکست کھا چکا تھا۔غرض لدھیانہ میں ایک شورش ہو رہی تھی اور محرم بھی غالبا قریب تھا۔اس پر لدھیانہ کے ڈپٹی کمشنر کو اندیشہ ہوا کہ کہیں لدھیانہ میں ان مولویوں کیوجہ سے فساد نہ ہو جاوےان کولدھیانہ سے رخصت کر دینے کا حکم دیا اور اس کام کیلئے ڈپٹی کمشنر نے ڈپٹی دلاور علی صاحب اور کرم بخش صاحب تھانہ دار کو مقرر کیا۔ان لوگوں نے مولوی محمد حسین کو ڈپٹی کمشنر کا حکم سُنا کر لدھیانہ سے رخصت کر دیا۔اور پھر وہ حضرت صاحب کے پاس حاضر ہوئے اور سڑک پر کھڑے ہوکر اندر آنے کی اجازت چاہی ،حضرت