سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 431 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 431

سیرت المہدی 431 حصہ دوم ہیں جن کے اندر آپ کی سیرت و سوانح کے متعلق کوئی خاص مواد نہیں ہے۔لیکن ان سے آپ کے صحابہ کی اس غیر معمولی محبت کا پتہ لگتا ہے جو ان کو آپ کی ذات سے تھی مگر میں نے بخوف طوالت عموماً ایسی روایات کو درج نہیں کیا۔452 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ سیر کے وقت میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ بخاری میں حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت آتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مجھے دو برتن علم کے دیئے ہیں ایک کو تو میں نے لوگوں میں پھیلا دیا ہے اور اگر دوسرا ظاہر کروں تو میرا گلا کاٹا جاوے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی بعض باتیں بعض صحابہ سے مخفی رکھتے تھے۔اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کا اگر یہی مطلب ہے تو چاہیے تھا کہ اس طرح کی خاص باتیں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر وغیرہ خاص خاص صحابہ کو بتلائی جاتیں نہ کہ صرف ابو ہریرہ کو۔پھر فرمایا کہ بعض اوقات انسان کو کوئی بات بتلائی جاتی ہے تو وہ اس کو اپنی سمجھ کے مطابق بڑی عظمت اور اہمیت دے کر خود بتلانا نہیں چاہتا۔453 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی رحیم بخش صاحب ساکن تلونڈی جھنگلاں نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ میں قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا حضرت صاحب نے فرمایا کہ چلو ذرا سیر کر آئیں۔چنانچہ حضرت صاحب بڑے بازار میں سے ہوتے ہوئے اس طرف تشریف لے گئے جہاں اب ہائی سکول ہے۔جب سیر کرتے کرتے واپس شہر کو آئے تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے يُنْجِيكَ مِنَ الْغَمِّ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا اور آپ نے فرمایا کہ ہمیں خدا کے فضل سے غم تو کوئی نہیں ہے شائد آئندہ کوئی غم پیش آئے۔جب مکان پر آئے تو ایک شخص امرتسر سے یہ خبر لایا کہ آپ کا وہ نگینہ جو الیس اللهُ بِكَافٍ عَبدَہ لکھنے کے واسطے حکیم محمد شریف صاحب کے پاس امرتسر بھیجا ہوا تھا وہ گم ہو گیا ہے اور نیز ایک ورق براہین احمدیہ کالا یا جو بہت خراب تھا اور پڑھا نہیں جاتا تھا۔یہ معلوم کر کے آپ کو بہت تشویش ہوئی اور فرمایا کہ حکیم محمد شریف ہمارا دوست ہے اور اس کو دل کی