سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 430
سیرت المہدی 430 حصہ دوم دعا خدا کے رحم کو اپنی طرف کھینچنے کا موجب ہوتی ہے۔نیز اس دعا کے الفاظ بھی ایسے ہیں کہ وہ اس قسم کے معاملات میں خدا کے رحم کو ابھارنے والے ہیں۔واللہ اعلم۔450 کی بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ایک دفعہ مسجد مبارک میں حقیقۃ الوحی کے عربی استفتاء کا پروف دیکھتے وقت مولوی محمد احسن صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ فلاں لفظ تو صحیح ہے مگر حضور نے اس پر نشان لگایا ہے۔حضور نے فرمایا کہ میں نے تو کوئی نشان نہیں لگایا۔اور مولوی صاحب کے عرض کرنے پر کہ پھر یہ نشان کس نے لگایا ہے حضرت صاحب نے فرمایا کہ شائد میر مہدی حسین صاحب نے لگایا ہوگا۔مولوی صاحب نے کہا کہ میر صاحب کو کیا حق تھا ؟ حضرت صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ان کو بھی ایک حق ہے جسے دخل بے جا کہتے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کے آخری ایام میں میر مہدی حسین صاحب حضرت صاحب کے کتب خانہ کے مہتم ہوتے تھے اور حضرت صاحب کے دیکھنے کے بعد کبھی کبھی اپنے شوق سے کاپی اور پروف وغیرہ دیکھ لیا کرتے تھے اور ان کی عادت میں چونکہ کسی قدر وہم ہے بعض اوقات اپنے خیال میں کسی لفظ کو سہو کا تب سمجھ کر اپنی رائے سے درست کرنا چاہتے تھے۔451 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا کہ نماز میں آپ نے ناک پر دائیاں ہاتھ پھیر کر کھلی کی۔اسی طرح دوسری دفعہ میں نے دیکھا کہ حضور علیہ السلام نے پاؤں کی کھجلی دائیں پاؤں سے رفع فرمائی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح یا سیرت کے لحاظ سے اس روایت میں کوئی بات خاص طور پر قابل ذکر نہیں ہے۔لیکن میں نے اس وجہ سے درج کر دیا ہے کہ تا یہ پتہ لگے کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ اپنے آقا کی حرکات وسکنات کا بار یک مطالعہ رکھتے تھے۔دراصل یہ بات صرف غیر معمولی محبت سے حاصل ہو سکتی ہے کہ اس قدر جز کی باتیں محسوس طور پر نظر میں آکر ذہن میں محفوظ رہ جائیں۔اس قسم کی روایات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق میرے پاس بہت پہنچی