سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 427
سیرت المہدی 427 حصہ دوم موقعہ پر ایسا ہوا کہ کسی مہمان کیلئے سالن نہیں بچا یا وقت پر ان کے کھانا رکھنا بھول گیا تو اپنا سالن یا سب کھانا اسکے لئے اُٹھوا کر بھجوا دیا۔بار ہا ایسا بھی ہوا کہ آپ کے پاس تحفہ میں کوئی چیز کھانے کی آئی تو یا خود کوئی چیز آپ نے ایک وقت منگوائی پھر اس کا خیال نہ رہا اور وہ صندوق میں پڑی پڑی سڑ گئی یا خراب ہوگئی۔اور اسے سب کا سب پھینکنا پڑا۔یہ دنیا دار کا کام نہیں۔ان اشیاء میں سے اکثر چیزیں تحفہ کے طور پر خدا کے وعدوں کے ماتحت آتی تھیں۔اور بار ہا ایسا ہوا کہ حضرت صاحب نے ایک چیز کی خواہش فرمائی اور وہ اسی وقت کسی نو وارد یا مرید با اخلاص نے لا کر حاضر کر دی۔آپ کو کوئی عادت کسی چیز کی نہ تھی۔پان البتہ کبھی کبھی دل کی تقویت یا کھانے کے بعد منہ کی صفائی کیلئے یا کبھی گھر میں سے پیش کر دیا گیا تو کھا لیا کرتے تھے۔یا کبھی کھانسی نزلہ یا گلے کی خراش ہوئی تو بھی استعمال فرمایا کرتے تھے۔حقہ تمباکو کو آپ ناپسند فرمایا کرتے تھے بلکہ ایک موقعہ پر کچھ حقہ نوشوں کو نکال بھی دیا تھا۔ہاں جن ضعیف العمر لوگوں کو مدت العمر سے عادت لگی ہوئی تھی ان کو آپ نے بسبب مجبوری کے اجازت دے دی تھی۔کئی احمدیوں نے تو اس طرح پر حقہ چھوڑا کہ ان کو قادیان میں وارد ہونے کے لئے حقہ کی تلاش میں تکیوں میں یا مرزا نظام الدین وغیرہ کی ٹولی میں جانا پڑتا تھا۔اور حضرت صاحب کی مجلس سے اُٹھ کر وہاں جانا کیونکہ بہشت سے نکل کر دوزخ میں جانے کا حکم رکھتا تھا اس لئے با غیرت لوگوں نے حقہ کو الوداع کہی۔ہاتھ دھونا وغیرہ:۔کھانے سے پہلے عموماً اور بعد میں ضرور ہاتھ دھویا کرتے تھے۔اور سردیوں میں اکثر گرم پانی استعمال فرماتے۔صابن بہت ہی کم برتتے تھے۔کپڑے یا تولیہ سے ہاتھ پونچھا کرتے تھے۔بعض ملانوں کی طرح داڑھی سے چکنے ہاتھ پونچھنے کی عادت ہرگز یہ تھی کی بھی کھانا کے بعد فرماتے تھے اور خلال بھی ضرور رکھتے تھے جوا کثر کھانے کے بعد کیا کرتے تھے۔