سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 424
سیرت المہدی 424 حصہ دوم مرغ کا گوشت ہر طرح کا آپ کھا لیتے تھے۔سالن ہو یا بھنا ہوا۔کباب ہو یا پلاؤ۔مگر اکثر ایک ران پر ہی گزارہ کر لیتے تھے۔اور وہی آپ کو کافی ہو جاتی تھی بلکہ کبھی کچھ بیچ بھی رہا کرتا تھا۔پلاؤ بھی آپ کھاتے تھے مگر ہمیشہ نرم اور گداز اور گلے گلے ہوئے چاولوں کا اور میٹھے چاول تو کبھی خود کہہ کر پکوالیا کرتے تھے۔مگر گڑ کے اور وہی آپ کو پسند تھے۔عمدہ کھانے یعنی کباب ، مرغ ، پلا دیا انڈے اور اسی طرح فیرنی میٹھے چاول وغیرہ تب ہی آپ کہہ کر پکوایا کرتے تھے جب ضعف معلوم ہوتا تھا۔جن دنوں میں تصنیف کا کام کم ہوتا یا صحت اچھی ہوتی ان دنوں میں معمولی کھانا ہی کھاتے تھے اور وہ بھی کبھی ایک وقت ہی صرف اور دوسرے وقت دودھ وغیرہ سے گزارہ کر لیتے۔دودھ، بالائی پکھن یہ اشیاء بلکہ بادام روغن تک صرف قوت کے قیام اور ضعف کے دور کرنے کو استعمال فرماتے تھے اور ہمیشہ معمولی مقدار میں۔بعض لوگوں نے آپ کے کھانے پر اعتراض کئے ہیں۔مگر اُن بیوقوفوں کو یہ خبر نہیں کہ ایک شخص جو عمر میں بوڑھا ہے اور اُسے کئی امراض لگے ہوئے ہیں اور باوجود ان کے وہ تمام جہان سے مصروف پریکار ہے۔ایک جماعت بنا رہا ہے جس کے فرد فرد پر اس کی نظر ہے۔اصلاح امت کے کام میں مشغول ہے۔ہر مذہب سے الگ الگ قسم کی جنگ ٹھنی ہوئی ہے۔دن رات تصانیف میں مصروف ہے جو نہ صرف اردو بلکہ فارسی اور عربی میں اور پھر وہی اُن کو لکھتا اور وہی کاپی دیکھتا۔وہی پروف درست کرتا اور وہی اُن کی اشاعت کا انتظام کرتا ہے۔پھر سینکڑوں مہمانوں کے ٹھہر نے اُترنے اور علی حسب مراتب کھلانے کا انتظام۔مباحثات اور وفود کا اہتمام۔نمازوں کی حاضری مسجد میں روزانہ مجلسیں اور تقریریں۔ہر روز بیسیوں آدمیوں سے ملاقات۔پھر ان سے طرح طرح کی گفتگو۔مقدمات کی پیروی۔روزانہ سینکڑوں خطوط پڑھنے اور پھر ان میں سے بہتوں کے جواب لکھنے اور پھر گھر میں اپنے بچوں اور اہل بیت کو بھی وقت دینا اور باہر گھر میں بیعت کا سلسلہ اور نصیحتیں اور دعا ئیں۔غرض اس قدر کام اور دماغی محنتیں اور تفکرات کے ہوتے ہوئے اور پھر تقاضائے عمر اور امراض کی وجہ سے اگر صرف اس عظیم الشان جہاد کے لئے قوت پیدا کرنے کو وہ شخص بادام روغن استعمال کرے تو کون بیوقوف اور ناحق شناس ظالم طبع انسان ہے جو اس کے اس فعل پر اعتراض کرے۔کیا وہ نہیں جانتا کہ بادام روغن کوئی۔