سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 418
رت المهدی 418 حصہ دوم آپ کو دیکھ کر کوئی شخص ایک لمحہ کیلئے بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس شخص کی زندگی میں یا لباس میں کسی قسم کا بھی تصنع ہے یا یہ زیب وزینت دنیوی کا دلدادہ ہے۔ہاں البتہ وَالرُّجُزَ فَاهْجُرُ کے ماتحت آپ صاف اور ستھری چیز ہمیشہ پسند فرماتے اور گندی اور میلی چیز سے سخت نفرت رکھتے۔صفائی کا اس قدر اہتمام تھا کہ بعض اوقات آدمی موجود نہ ہو تو بیت الخلا میں خود فینائل ڈالتے تھے۔عمامہ شریف آپ ململ کا باندھا کرتے تھے اور اکثر دس گز یا کچھ اوپر لمبا ہوتا تھا۔شملہ آپ لمبا چھوڑتے تھے کبھی کبھی شملہ کو آگے ڈال لیا کرتے اور کبھی اس کا پلہ دہن مبارک پر بھی رکھ لیتے۔جبکہ مجلس میں خاموشی ہوتی۔عمامہ کے باندھنے کی آپ کی خاص وضع تھی۔نوک تو ضرور سامنے ہوتی مگر سر پر ڈھیلا ڈھالا لپٹا ہوا ہوتا تھا۔عمامہ کے نیچے اکثر رومی ٹوپی رکھتے تھے اور گھر میں عمامہ اُتار کر صرف یہ ٹوپی ہی پہنے رہا کرتے مگر نرم قسم کی دوہری جو سخت قسم کی نہ ہوتی۔جرا ہیں آپ سردیوں میں استعمال فرماتے اور ان پر مسیح فرماتے۔بعض اوقات زیادہ سردی میں دو دو جرا ہیں اوپر تلے چڑھا لیتے۔مگر بار ہا جراب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی۔کبھی تو سرا آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی پشت پر آجاتی۔کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی۔اگر جراب کہیں سے کچھ پھٹ جاتی تو بھی مسح جائز رکھتے بلکہ فرماتے تھے کہ رسول ﷺ کے اصحاب ایسے موزوں پر بھی مسح کر لیا کرتے تھے جس میں سے ان کی انگلیوں کے پوٹے باہر نکلے رہا کرتے۔جوتی آپ کی دیسی ہوتی ، خواہ کسی وضع کی ہو، پوٹھواری ، لاہوری۔لدھیانوی، سلیم شاہی ہر وضع کی پہن لیتے مگر ایسی جو کھلی کھلی ہو۔انگریزی بوٹ کبھی نہیں پہنا۔گر گابی حضرت صاحب کو پہنے میں نے نہیں دیکھا۔جوتی اگر تنگ ہوتی تو اس کی ایڑی بٹھا لیتے مگر ایسی جوتی کے ساتھ باہر تشریف نہیں لیجاتے تھے۔لباس کے ساتھ ایک چیز کا اور بھی ذکر کر دیتا ہوں وہ یہ کہ آپ عصا ضرور رکھتے تھے۔گھر میں یا جب مسجد مبارک میں روزانہ نماز کو جانا ہوتا تب تو نہیں مگر مسجد اقصی کو جانے کے وقت یا جب باہر سیر وغیرہ کیلئے