سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 416 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 416

سیرت المہدی 416 حصہ دوم طرح ان کے اتباع میں ایک حد تک جسمانی زینت کا خیال ضرور رکھتے تھے غسل جمعہ حجامت ، حنا ، مسواک روغن اور خوشبو کنگھی اور آئینہ کا استعمال برابر مسنون طریق پر آپ فرمایا کرتے تھے مگر ان باتوں میں انہماک آپ کی شان سے بہت دُور تھا۔لباس:۔سب سے اول یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ آپ کو کسی قسم کے خاص لباس کا شوق نہ تھا۔آخری ایام کے کچھ سالوں میں آپ کے پاس کپڑے سادے اور سلے سلائے بطور تحفہ کے بہت آتے تھے۔خاص کر کوٹ صدری اور پائجامہ قمیض وغیرہ جو اکثر شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری ہر عید بقر عید کے موقعہ پر اپنے ہمراہ نذرلاتے تھے وہی آپ استعمال فرمایا کرتے تھے۔مگر علاوہ ان کے کبھی کبھی آپ خود بھی بنوالیا کرتے تھے۔عمامہ تو اکثر خود ہی خرید کر باندھتے تھے۔جس طرح کپڑے بنتے تھے اور استعمال ہوتے تھے اُس طرح ساتھ ساتھ خرچ بھی ہوتے جاتے تھے یعنی ہر وقت تبرک مانگنے والے طلب کرتے رہتے تھے۔بعض دفعہ تو یہ نوبت پہنچ جاتی کہ آپ ایک کپڑا بطور تبرک کے عطا فر ماتے تو دوسرا بنوا کر اس وقت پہنا پڑتا اور بعض سمجھدار اس طرح بھی کرتے تھے کہ مثلاً ایک کپڑا اپنا بھیج دیا اور ساتھ عرض کر دیا کہ حضور ایک اپنا اترا ہوا تبرک مرحمت فرما دیں۔خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔اب آپ کے لباس کی ساخت سنئے۔عموماً یہ کپڑے آپ زیب تن فرمایا کرتے تھے۔کر تہ یا قمیض ، پائجامہ ،صدری ،کوٹ ، عمامہ۔اس کے علاوہ رومال بھی ضرور رکھتے تھے اور جاڑوں میں جرا ہیں۔آپ کے سب کپڑوں میں خصوصیت یہ تھی کہ وہ بہت کھلے کھلے ہوتے تھے۔اور اگر چہ شیخ صاحب مذکور کے آوردہ کوٹ انگریزی طرز کے ہوتے مگر وہ بھی بہت کشادہ اور لمبے یعنی گھٹنوں۔نیچے ہوتے تھے اور جیتے اور چوغہ بھی جو آپ پہنتے تھے تو وہ بھی ایسے لمبے کہ بعض تو ان میں سے ٹخنے تک پہنچتے تھے۔اسی طرح گرتے اور صدریاں بھی کشادہ ہوتی تھیں۔بنیان آپ کبھی نہ پہنتے تھے بلکہ اس کی تنگی سے گھبراتے تھے۔گرم تمیں جو پہنتے تھے ان کا اکثر او پر کا بٹن کھلا رکھتے تھے۔اسی طرح صدری اور کوٹ کا اور تمیض کے کفوں میں اگر بٹن ہوں تو وہ بھی ہمیشہ گھلے