سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 413
سیرت المہدی 413 حصہ دوم مسکراہٹ ایسی ہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اب حقیقت پیشگوئی کی پورے طور پر کھلے گی اور میرا دامن ہر طرح کی آلائش اور سازش سے پاک ثابت ہوگا۔غرض یہی حالت تمام مقدمات، ابتلاؤں مصائب اور مباحثات میں رہی اور یہ وہ اطمینان قلب کا اعلیٰ اور اکمل نمونہ تھا جسے دیکھ کر بہت سی سعید روحیں ایمان لے آئی تھیں۔آپ کے بال :۔آپ کے سر کے بال نہایت باریک سیدھے، چکنے، چمکدار اور نرم تھے اور مہندی کے رنگ سے رنگین رہتے تھے۔گھنے اور کثرت سے نہ تھے بلکہ کم کم اور نہایت ملائم تھے۔گردن تک لمبے تھے۔آپ نہ سرمنڈواتے تھے نہ خشخاش یا اس کے قریب کترواتے تھے بلکہ اتنے لمبے رکھتے تھے جیسے عام طور پر پیٹے رکھے جاتے ہیں۔سر میں تیل بھی ڈالتے تھے۔چنبیلی یا حنا وغیرہ کا۔یہ عادت تھی کہ بال سوکھے نہ رکھتے تھے۔ریش مبارک :۔آپ کی داڑھی اچھی گھندا تھی، بال مضبوط ،موٹے اور چمکدار سید ھے اور نرم، حنا سے سرخ رنگے ہوئے تھے۔ڈاڑھی کو لمبا چھوڑ کر حجامت کے وقت فاضل آپ کتر وادیتے تھے یعنی بے ترتیب اور ناہموار نہ رکھتے تھے بلکہ سیدھی نیچے کو اور برابر رکھتے تھے۔داڑھی میں بھی ہمیشہ تیل لگایا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک پھنسی گال پر ہونے کی وجہ سے وہاں سے کچھ بال پورے بھی کتر وائے تھے اور وہ تبرک کے طور پر لوگوں کے پاس اب تک موجود ہیں۔ریش مبارک تینوں طرف چہرہ کے تھی۔اور بہت خوبصورت۔نہ اتنی کم کہ چھدری اور نہ صرف ٹھوڑھی پر ہو نہ اتنی کہ آنکھوں تک بال پہنچیں۔وسمہ مہندی :۔ابتداء ایام میں آپ وسمہ اور مہندی لگا یا کرتے تھے۔پھر دماغی دورے بکثرت ہونے کی وجہ سے سر اور ریش مبارک پر آخر عمر تک مہندی ہی لگاتے رہے وسمہ ترک کر دیا تھا۔البتہ کچھ روز انگریزی وسمہ بھی استعمال فرمایا مگر پھر ترک کر دیا۔آخری دنوں میں میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی نے ایک وسمہ تیار کر کے پیش کیا تھا وہ لگاتے تھے۔اس سے ریش مبارک میں سیاہی آگئی تھی۔مگر اس کے علاوہ ہمیشہ برسوں مہندی پر ہی اکتفا کی جوا کثر جمعہ کے جمعہ یا بعض اوقات اور دنوں میں بھی آپ نائی سے لگوایا کرتے تھے۔