سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 412
سیرت المہدی 412 حصہ دوم ہیں۔بعض لوگ ناواقفی کے باعث مخالفین سے اس کی موت پر شرطیں لگا چکے ہیں۔ہر طرف سے اداسی کے آثار ظاہر ہیں۔لوگ نمازوں میں چیخ چیخ کر رو ر ہے ہیں کہ اے خداوند ہمیں رسوا مت کر یو۔غرض ایسا کہرام مچ رہا ہے کہ غیروں کے رنگ بھی فق ہورہے ہیں مگر یہ خدا کا شیر گھر سے نکلتا ہے ہنستا ہوا اور جماعت کے سر بر آور دوں کو مسجد میں بلاتا ہے مسکرا تا ہوا۔ادھر حاضرین کے دل بیٹھے جاتے ہیں۔ادھر وہ کہہ رہا ہے کہ لو پیش گوئی پوری ہوگئی۔اِطَّلَعَ اللهُ عَلى هَمِّهِ وَغَمّه - مجھے الہام ہوا اس نے حق کی طرف رجوع کیا حق نے اس کی طرف رجوع کیا۔کسی نے اس کی بات مانی نہ مانی اس نے اپنی سُنا دی اور سننے والوں نے اس کے چہرہ کو دیکھ کر یقین کیا کہ یہ سچا ہے۔ہم کو غم کھا رہا ہے اور یہ بے فکر اور بے غم مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہا ہے۔اس طرح کہ گویا حق تعالیٰ نے آتھم کے معاملہ کا فیصلہ اسی کے اپنے ہاتھ میں دیدیا۔اور پھر اس نے آتھم کا رجوع اور بیقراری دیکھ کر خود اپنی طرف سے مہلت دیدی اور اب اس طرح خوش ہے جس طرح ایک دشمن کو مغلوب کر کے ایک پہلوان پھر محض اپنی دریا دلی سے خود ہی اسے چھوڑ دیتا ہے کہ جاؤ ہم تم پر رحم کرتے ہیں۔ہم مرے کو مارنا اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔رام کی پیشگوئی پوری ہوئی مخبروں نے فوراً اتہام لگانے شروع کئے۔پولیس میں تلاشی کی درخواست کی گئی۔صاحب سپر نٹنڈنٹ پولیس یکا یک تلاشی کیلئے آموجود ہوئے۔لوگ الگ کر دیئے گئے اندر کے باہر باہر کے اندر نہیں جاسکتے۔مخالفین کا یہ زور کہ ایک حرف بھی تحریر کا مشتبہ نکلے تو پکڑ لیں مگر آپ کا یہ عالم کہ وہی خوشی اور مسرت چہرہ پر ہے اور خود پولیس افسروں کو لیجا لیجا کر اپنے بستے اور کتا بیں تحریریں اور خطوط اور کوٹھریاں اور مکان دکھا رہے ہیں۔کچھ خطوط انہوں نے مشکوک سمجھ کر اپنے قبضہ میں بھی کر لئے ہیں۔مگر یہاں وہی چہرہ ہے اور وہی مسکراہٹ۔گویا نہ صرف بے گناہی بلکہ ایک فتح مبین اور اتمام حجت کا موقعہ نزد یک آتا جاتا ہے۔برخلاف اس کے باہر جولوگ بیٹھے ہیں ان کے چہروں کو دیکھو وہ ہر ایک کانسٹیبل کو باہر نکلتے اور اندر جاتے دیکھ دیکھ کر سہمے جاتے ہیں۔ان کا رنگ فق ہے ان کو یہ معلوم نہیں کہ اندر تو وہ جس کی آبرو کا انہیں فکر ہے خود افسروں کو بلا بلا کر اپنے بستے اور اپنی تحریریں دکھلا رہا ہے اور اسکے چہرے پر ایک