سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 409 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 409

سیرت المہدی 409 حصہ دوم ہوئی اور لڑکے کی وفات کا سارا غم دل سے ڈھل گیا اور جو لوگ ماتم پرسی کیلئے اس وقت میرے گھر آئے ہوئے تھے ان سب سے میں نے کہہ دیا کہ اب آپ لوگ جائیں مجھے کوئی غم نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے ایک اور لڑکے کی بشارت لکھ کر بھیجی ہے۔چنانچہ میاں غلام نبی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس کے کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک اور لڑ کا عطا کیا جو خدا کے فضل سے اب تک زندہ موجود ہے اور اس کا نام کرم الہی ہے۔اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے صاحب اولاد ہے۔446 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود دعا کا ذکر کرتے ہوئے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ دعا کی تو یہ مثال ہے کہ ”جو منگے سومر رہے، مرے سومنگن جائے“ یعنی جو شخص مانگتا ہے اسے اپنے واسطے ایک موت قبول کرنے کو تیار ہو جانا چاہیے اور جو مر رہا ہو وہی مانگنے کیلئے نکلتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ دعا کی قبولیت کیلئے یہ ضروری ہے کہ انسان اپنے اوپر ایک موت وارد کرے اور آستانہ درگاہ باری پر ایک بے جان مردہ کی طرح گر جاوے اور خدا کے دروازے کے سوا اپنی ساری امیدوں کو قطع کر دے۔اور مصرع کے دوسرے حصہ کا مطلب یہ ہے کہ مانگتا بھی دراصل وہی ہے جو مر رہا ہو یعنی جسے کوئی ایسی حقیقی ضرورت پیش آگئی ہو کہ اس کے لئے سوائے سوال کے کوئی چارہ نہ رہے لیکن دعا کے مسئلہ کے ساتھ صرف مصرع کے پہلے حصہ کا تعلق معلوم ہوتا ہے۔واللہ اعلم۔447 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب جو ہمارے حقیقی ماموں ہیں ان کا ایک مضمون الحق دہلی مورخہ ۱۹/۲۶ جون ۱۹۱۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شمائل کے متعلق شائع ہوا تھا یہ مضمون حضرت صاحب کے شمائل میں ایک بہت عمدہ مضمون ہے اور میر صاحب موصوف کے ہیں سالہ ذاتی مشاہدہ اور تجربہ پر مبنی ہے۔لہذا درج ذیل کیا جاتا۔میر صاحب تحریر فرماتے ہیں: احمدی تو خدا کے فضل سے ہندوستان کے ہر گوشہ میں موجود ہیں بلکہ غیر ممالک میں بھی مگر احمد کے