سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 398 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 398

سیرت المہدی 398 حصہ دوم افسوس یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیرینہ صحبت یافتہ یکے بعد دیگرے گذرتے جاتے ہیں اور ابھی تک ہم میں اکثر نے ان سے وہ درس وفانہیں سیکھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا کی طرف سے لائے تھے اور جس کے بغیر ایک مذہبی قوم کی ترقی محال ہے۔440 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ہماری تائی صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں تمہارے تایا سے عمر میں چند ماہ بڑی تھی اور تمہارے تایا تمہارے ابا سے دو سال بڑے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس حساب سے ہماری تائی صاحبہ کی عمر اس وقت جو اکتو بر ۱۹۲۷ء ہے قریباً ستانوے سال کی بنتی ہے مگر یہ عمروں کا معاملہ کچھ شکی سا ہے کیونکہ سارا حساب زبانی ہے ، اس زمانہ میں عمروں کے متعلق کوئی تحریری ضبط نہیں تھا۔نیز تائی صاحبہ نے بیان کیا کہ تمہارے دادا کے ہاں صرف چار بچے پیدا ہوئے۔سب سے بڑی مراد بیگم تھیں پھر تمہارے تایا پیدا ہوئے اور پھر تمہارے ابا اور ان کے ساتھ ایک لڑکی توام پیدا ہوئی مگر یہ لڑ کی جلد فوت ہو گئی۔ان سب میں دو، دو سال کا فرق تھا۔6441 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار کی نانی اماں نے مجھ سے بیان کیا کہ جب تمہارے نانا جان کی اس نہر کے بنوانے پر ڈیوٹی لگی جو قادیان سے غرب کی طرف دو ڈھائی میل کے فاصلہ پر سے گذرتی ہے تو اس وقت تمہارے تایا مرزا غلام قادر صاحب کے ساتھ ان کا کچھ تعارف ہو گیا اور اتفاق سے ان دنوں میں میں کچھ بیمار ہوئی تو تمہارے تایا نے میر صاحب سے کہا کہ میرے والد صاحب بہت ماہر طبیب ہیں۔آپ ان سے علاج کرائیں چنانچہ تمہارے نانا مجھے ڈولے میں بٹھا کر قادیان لائے۔جب میں یہاں آئی تو نیچے کی منزل میں تمہارے تایا مجلس لگائے ہوئے بیٹھے تھے اور کچھ لوگ ان کے آس پاس بیٹھے تھے اور ایک نیچے کی کوٹھری میں تمہارے ابا ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) ایک کھڑکی کے پاس بیٹھے ہوئے قرآن شریف پڑھ رہے تھے اور اوپر کی منزل میں تمہارے دادا صاحب تھے۔تمہارے دادا نے میری نبض دیکھی اور ایک نسخہ لکھ دیا اور پھر میر صاحب کے ساتھ اپنے دہلی جانے اور وہاں حکیم محمد شریف صاحب سے علم طب سیکھنے کا ذکر کرتے رہے۔اس کے بعد میں جب دوسری دفعہ قادیان آئی تو تمہارے دادا فوت ہو چکے تھے