سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 397 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 397

سیرت المہدی 397 حصہ دوم بلاک میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مسابقون اوراولون خدام کیلئے مخصوص ہے، دفن کیا گیا اور حضرت خلیفہ مسیح نے دفن کئے جانے کے وقت فرمایا کہ جن لوگوں کے سامنے یہ کرتہ بعد نسل میاں عبداللہ صاحب کو پہنایا گیا ان کی ایک حلفیہ شہادت اخبار میں شائع ہونی چاہیے تا کہ کسی آئندہ زمانہ میں کوئی شخص کو کی جعلی کرنہ پیش کر کے یہ دعویٰ نہ کر سکے کہ یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ کرتہ ہے جس پر چھینٹے پڑے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب مرحوم سابقون اولون میں سے تھے اور حضرت مسیح موعودؓ کے ساتھ ان کو ایک غیر معمولی عشق تھا۔میرے ساتھ جب وہ حضرت صاحب کا ذکر فرماتے تھے تو اکثر ان کی آنکھیں ڈبڈبا آتی تھیں اور بعض اوقات ایسی رقت طاری ہو جاتی تھی کہ وہ بات نہیں کر سکتے تھے، جب وہ پہلے پہل حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی عمر صرف اٹھارہ سال کی تھی اور اس کے بعد آخری لمحہ تک ایسے روز افزوں اخلاص اور وفاداری کے ساتھ مرحوم نے اس تعلق کو نبھایا کہ جوصرف انبیاء کے خاص اصحاب ہی کی شان ہے۔ایسے لوگ جماعت کیلئے موجب برکت ورحمت ہوتے ہیں اور ان کی وفات ایک ایسا قومی نقصان ہوتی ہے جس کی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔مرحوم کو اس خاکسار کے ساتھ بہت انس تھا اور آخری ایام میں جب کہ وہ پنشن لے کر قادیان آگئے تھے۔انہوں نے خاص شوق کے ساتھ ہمارے اس نئے باغ کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا جو فارم کے نام سے مشہور ہے اور جو یہ خاکسار کچھ عرصہ سے تیار کروا رہا ہے اور پھر مرحوم نے اس انتظام کو ایسی خوبی کے ساتھ نبھایا کہ میں اس کے تفکرات سے قریباً بالکل آزاد ہو گیا۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو عالم اُخروی میں اعلیٰ انعامات کا وارث کرے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاص قرب میں جگہ عطا فرمائے جن کا عشق مرحوم کی زندگی کا جزو تھا اور مرحوم کے پسماندگان کوصبر جمیل کی توفیق دے۔اللھم آمین بوقت وفات مرحوم کی عمر کم و بیش چھیاسٹھ سال کی تھی۔وفات مرض فالج سے ہوئی جسمیں مرحوم نے تیرہ دن بہت تکلیف سے کاٹے۔فالج کا اثر زبان پر بھی تھا اور طاقت گویائی نہیں رہی تھی مگر ہوش قائم تھے۔یوں تو سب نے مرنا ہے مگر ایسے پاک نفس بزرگوں کی جدائی دل پر سخت شاق گذرتی ہے اور زیادہ