سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 396
سیرت المہدی 396 حصہ دوم ہی سب لوگوں کے سامنے بیوی صاحبہ کے ساتھ مصافحہ فرمایا اور ان کو ساتھ لے کر فرودگاہ پر واپس تشریف لے آئے۔439 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ آج بتاریخ ۷ اکتو بر ۱۹۲۷ء بروز جمعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک بہت بڑی یادگار اور خداوند عالم کی ایک زبر دست آیت مقبرہ بہشتی میں سپرد خاک ہوگئی یعنی میاں عبداللہ صاحب سنوری کے ساتھ حضرت مسیح موعود کا وہ کرتہ جس پر خدائی روشنائی کے چھینٹے پڑے تھے دفن کر دیا گیا۔خاکسار نے سیرۃ المہدی حصہ اول میں میاں عبداللہ صاحب کی زبانی وہ واقعہ قلم بند کیا ہے جو حضرت مسیح موعود کے کرتہ پر چھینٹے پڑنے کے متعلق ہے۔حضرت صاحب نے میاں عبداللہ صاحب کے اصرار پر ان کو یہ کر نہ عنایت کرتے ہوئے ہدایت فرمائی تھی کہ یہ کر نہ میاں عبداللہ صاحب کی وفات پر ان کے ساتھ دفن کر دیا جاوے تاکہ بعد میں کسی زمانہ میں شرک کا موجب نہ بنے۔سو آج میاں عبداللہ صاحب کی وفات پر وہ ان کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔مجھے یہ کرتہ میاں عبداللہ صاحب نے اپنی زندگی میں کئی دفعہ دکھایا تھا اور میں نے وہ چھینٹے بھی دیکھے تھے جو خدائی ہاتھ کی روشنائی سے اس پر پڑے تھے۔اور جب آج آخری وقت میں غسل کے بعد یہ کرتہ میاں عبداللہ صاحب کو پہنایا گیا تو اس وقت بھی خاکسار وہاں موجود تھا۔میاں عبداللہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ کا دیا ہوا ایک صابن کا ٹکڑا اور ایک بالوں کو لگانے کے تیل کی چھوٹی بوتل اور ایک عطر کی چھوٹی سی شیشی بھی رکھی ہوئی تھی اور فسل کے بعد جو اسی صابن سے دیا گیا۔یہی تیل اور عطر میاں عبداللہ صاحب کے بالوں وغیرہ کو لگایا گیا۔اور کرتہ پہنائے جانے کے بعد خاکسار نے خود اپنے ہاتھ سے کچھ عطر اس کرتہ پر بھی لگایا۔نماز جنازہ سے قبل جب تک حضرت خلیفہ امسیح ایدہ اللہ کی آمد کا انتظار رہا لوگ نہایت شوق اور درد و رقت کے ساتھ میاں عبداللہ صاحب کو دیکھتے رہے جو اس کرتہ میں ملبوس ہو کر عجیب شان میں نظر آتے تھے اور جنازہ میں اس کثرت کے ساتھ لوگ شریک ہوئے کہ اس سے قبل میں نے قادیان میں کسی جنازہ میں اتنا مجمع نہیں دیکھا۔اس کے بعد حضرت خلیفتہ اسیح کے سامنے میاں عبداللہ صاحب کو اس کرتہ کے ساتھ بہشتی مقبرہ کے خاص