سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 34 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 34

سیرت المہدی 34 حصہ اوّل غلام مرتضی صاحب نے ۱۸۷۶ء ماہ جون یا حضرت صاحب کی ایک تحریر کے مطابق ۲۰ اگست ۱۸۷۵ء میں وفات پائی اور آپ کے بھائی مرزا غلام قادر صاحب ۱۸۸۳ء میں فوت ہوئے۔دادا صاحب کی عمر وفات کے وقت اسی سے اوپر تھی اور تایا صاحب کی عمر پچپن سال کے لگ بھگ تھی۔حضرت مسیح موعود کی تاریخ پیدائش کے متعلق اختلاف ہے۔خود آپ کی اپنی تحریرات بھی اس بارے میں مختلف ہیں۔دراصل وہ سکھوں کا زمانہ تھا اور پیدائشوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا۔حضرت مسیح موعود نے بعض جگہ ۱۸۳۹ ء یا ۱۸۴۰ء بیان کیا ہے مگر آپ کی اپنی ہی دوسری تحریرات سے اس کی تردید ہوتی ہے۔درحقیقت آپ نے خود اپنی عمر کے متعلق اپنے اندازوں کو غیر یقینی قراد دیا ہے۔دیکھو براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ۱۹۳۔( اور صیح تاریخ ۱۸۳۶ء معلوم ہوئی ہے ) نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی ایک دوسری تحریر سے دادا صاحب کی وفات کی تاریخ جون ۱۸۷۴ء ثابت ہوتی ہے۔مگر جہاں تک میری تحقیق ہے ۱۸۷۵ء اور ۱۸۷۴ء ہر دو غلط ہیں اور جیسا کہ سرکاری کاغذات سے پتہ لگتا ہے صحیح تاریخ ۱۸۷۶ء ہے۔مگر حضرت صاحب کو یاد نہیں رہا۔واللہ اعلم) 46 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود پانچ بہن بھائی تھے۔سب سے بڑی حضرت صاحب کی وہ ہمشیرہ تھیں جن کی شادی مرزا غلام غوث ہوشیار پوری کے ساتھ ہوئی تھی۔حضرت صاحب کی یہ ہمشیرہ صاحب رویاء و کشف تھیں ان کا نام مراد بی بی تھا۔ان سے چھوٹے مرزا غلام قادر صاحب تھے۔ان سے چھوٹا ایک لڑکا تھا جو بچپن میں فوت ہو گیا۔اس سے چھوٹی حضرت صاحب کی وہ ہمشیرہ تھیں جو آپ کے ساتھ تو ام پیدا ہوئی اور جلد فوت ہوگئی اس کا نام جنت تھا سب سے چھوٹے حضرت مسیح موعود تھے۔والدہ صاحبہ بیان کرتی تھیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہماری بڑی ہمشیرہ کو ایک دفعہ کسی بزرگ نے خواب میں ایک تعویذ دیا تھا۔بیدار ہوئیں تو ہاتھ میں بھوج پتر پرلکھی ہوئی سورۃ مریم تھی۔( خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے یہ بھوج پتر دیکھا ہے جواب تک ہماری بڑی بھاوج صاحبه یعنی والدہ مرزا رشید احمد صاحب کے پاس محفوظ ہے)