سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 391 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 391

سیرت المہدی 391 حصہ دوم 432 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں میں کسی وجہ سے اپنی بیوی مرحومہ پر کچھ خفا ہوا جس پر میری بیوی نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی بڑی بیوی کے پاس جا کر میری ناراضگی کا ذکر کیا اور حضرت مولوی صاحب کی بیوی نے مولوی صاحب سے ذکر کر دیا۔اس کے بعد میں جب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سے ملا تو انہوں نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ مفتی صاحب آپ کو یا د رکھنا چاہیے کہ یہاں ملکہ کا راج ہے۔بس اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا مگر میں ان کا مطلب سمجھ گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے یہ الفاظ عجیب معنی خیز ہیں کیونکہ ایک طرف تو ان دنوں میں برطانیہ کے تخت پر ملکہ وکٹور یا متمکن تھیں اور دوسری طرف حضرت مولوی صاحب کا اس طرف اشارہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے خانگی معاملات میں حضرت ام المومنین کی بات بہت مانتے ہیں اور گویا گھر میں حضرت ام المومنین ہی کی حکومت ہے، اور اس اشارہ سے مولوی صاحب کا مقصد یہ تھا کہ مفتی صاحب کو اپنی بیوی کے ساتھ سلوک کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے۔433 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود یہ السلام اپنے خدام کے ساتھ بہت بے تکلف رہتے تھے۔جس کے نتیجہ میں خدام بھی حضور کے ساتھ ادب واحترام کوملحوظ رکھتے ہوئے بے تکلفی سے بات کر لیتے تھے چنانچہ ایک دفعہ میں لا ہور سے حضور کی ملاقات کیلئے آیا اور وہ سردیوں کے دن تھے اور میرے پاس اوڑھنے کیلئے رضائی وغیرہ نہیں تھی میں نے حضرت کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ حضور رات کو سردی لگنے کا اندیشہ ہے حضور مہربانی کر کے کوئی کپڑا عنائت فرما دیں۔حضرت صاحب نے ایک ہلکی رضائی اور ایک ڈھسا ارسال فرمائے اور ساتھ ہی پیغام بھیجا کہ رضائی محمود کی ہے اور ڈھسا میرا ہے۔آپ ان میں سے جو پسند کریں رکھ لیں اور چاہیں تو دونوں رکھ لیں۔میں نے رضائی رکھ لی اور ڈھسا واپس بھیج دیا نیز مفتی صاحب نے بیان کیا کہ جب میں قادیان سے واپس لاہور جایا کرتا تھا تو حضور اندر سے میرے لئے ساتھ لے جانے کے واسطے کھانا بھجوایا کرتے تھے۔