سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 385 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 385

سیرت المہدی 385 حصہ دوم ایک ایسے شخص کی سفارش لائے ہو جس کا کہنا میں نے آج تک کبھی رد نہیں کیا اور نہ کرسکتا ہوں۔6427 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی عبداللہ صاحب سنوری نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے میں نے سنا ہے کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ بعض اوقات ایک انسان بداعمالی میں مبتلا ہوتا ہے اور ترقی کرتا جاتا ہے حتی کہ دوزخ کے منہ تک پہنچ جاتا ہے لیکن پھر اس کی زندگی میں ایک پلٹا آتا ہے اور وہ نیکی کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور اس کا انجام بہت اچھا ہو جاتا ہے۔اور ایک دوسرا شخص نیک ہوتا ہے اور اچھے اعمال بجالاتا ہے۔حتی کہ جنت کے منہ تک پہنچ جاتا ہے لیکن پھر اسے کوئی ٹھوکر لگتی ہے اور وہ بدی کی طرف جھک جاتا ہے اور اس کا انجام خراب ہو جاتا ہے۔اور میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ حدیث بیان فرما کر فرماتے تھے کہ جو شخص بداعمالی میں زندگی گزارتا ہے لیکن بالآخر اسی دنیا میں اسکا انجام نیک ہو جاتا ہے وہ بھی عجیب نصیبے والا انسان ہوتا ہے کہ اس جہان میں بھی وہ اپنی خواہشات کے مطابق آزادانہ زندگی گزار لیتا ہے اور اگلے جہان میں بھی اسے جنت میں جگہ ملتی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو شخص ساری عمر بداعمالی میں مبتلارہ کر آخری عمر میں تو بہ کا موقعہ پا کر جنت میں داخل ہو جاتا ہے وہ سب سے زیادہ خوش نصیب ہے کیونکہ اگر دوسرے حالات مساوی ہوں تو یقیناً ایسا شخص اُس شخص سے رتبہ میں بہت کم ہے جو دنیا کی زندگی بھی خدا کے لئے تقویٰ و طہارت میں صرف کرتا ہے مگر ہاں چونکہ آخری عمر کی تو بہ مقدم الذکر شخص کی نجات اخروی کا موجب ہو جاتی ہے۔اس لئے اس میں شک نہیں کہ وہ خاص طور پر خوش نصیب سمجھا جانا چاہیے۔اور یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایسا شخص اس جہان میں بھی اپنی خواہشات کے مطابق آزادانہ زندگی گزار لیتا ہے اسکا مطلب یہ نہیں کہ جو شخص خدا کے لئے اس دنیا میں زندگی گذارتا ہے اور اپنی خواہشات نفسانی کو دبا کر رکھتا ہے اس کی زندگی کو ئی تلخی کی زندگی ہوتی ہے۔کیونکہ گو مادی نقطہ نگاہ سے اس کی زندگی تلخ سمجھی جاسکتی ہے لیکن اس کیلئے وہی خوشی کی زندگی ہوتی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ خدا کیلئے زندگی گزارنے والا جو روحانی سرور اور لطف اپنی زندگی میں پاتا ہے وہ ہرگز ایک دنیا دار کو اپنی جسمانی لذات میں حاصل نہیں ہو