سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 384
سیرت المہدی 384 حصہ دوم عرض کرتا ہے کہ بھائی عبدالرحیم صاحب اور بھائی عبدالعزیز صاحب ہر دو نومسلمین میں سے ہیں۔بھائی عبدالرحیم صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بڑے شوق سے حصہ لیتے تھے اور حضرت صاحب بھی از راه شفقت بعض متفرق خدمات ان کے سپرد فرما دیتے تھے۔آجکل وہ ہمارے مدرسہ سه تعلیم الاسلام میں دینیات کے اول مدرس ہیں۔425 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں عبداللہ صاحب سنوری نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے خدام کے ساتھ بالکل بے تکلفی سے گفتگو فرماتے تھے۔میں آپ کی خدمت میں اپنے سارے حالات کھل کر عرض کر دیتا تھا اور آپ ہمدردی اور توجہ سے سنتے تھے اور بعض اوقات آپ اپنے گھر کے حالات خود بھی بے تکلفی سے بیان فرما دیتے تھے اور ہمیشہ مسکراتے ہوئے ملتے تھے جس سے دل کی ساری کلفتیں دور ہو جاتی تھیں۔426 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی قطب الدین صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ اوائل زمانہ میں جب میں نے علم طب کے حاصل کرنے کی طرف توجہ کی تو میں نے بعض ابتدائی درسی کتابیں پڑھنے کے بعد کسی ماہر فن سے علم سیکھنے کا ارادہ کیا اور چونکہ میں نے حکیم محمد شریف صاحب امرتسری کے علم و کمال کی بہت تعریف سنی تھی اس لئے میں ان کے پاس گیا اور علم سیکھنے کی خواہش کی مگر انہوں نے جواب دیدیا اور ایسے رنگ میں جواب دیا کہ میں ان کی طرف سے مایوس ہو گیا۔اسکے بعد میں جب قادیان آیا تو میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ میں طب کا علم کسی ماہر سے حاصل کرنا چاہتا ہوں۔حضرت صاحب نے حکیم محمد شریف صاحب کا نام لیا میں نے عرض کیا کہ انہوں نے تو جواب دیدیا ہے۔حضرت صاحب فرمانے لگے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے عام حالات کے ماتحت دوسرے کی درخواست کو رد کر دیتا ہے لیکن جب اس امر کے متعلق اس کے پاس کسی ایسے شخص کی سفارش کی جاتی ہے جس کا اسے خاص لحاظ ہوتا ہے تو پھر وہ مان لیتا ہے۔پس ہمیں بھی امید ہے کہ حکیم صاحب ہماری سفارش کو رد نہیں کریں گے۔چنا نچہ میں حضرت صاحب کی سفارش لے کر گیا تو حکیم صاحب خوشی کے ساتھ رضامند ہو گئے اور کہنے لگے کہ تم