سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 381 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 381

سیرت المہدی 381 حصہ دوم ہوں تو خدا تعالیٰ وہ لعنت اور عذاب میرے پر نازل کرے جو ابتدائے دنیا سے آج تک کسی کافر بے ایمان پر نہ کی ہو چنانچہ حضرت صاحب نے مباہلہ سے قبل ہی اپنے اشتہار مورخہ ۹ ذیقعد ۱۳۱۰۰ھ مطابق ۲۶ رمئی ۱۸۹۳ء میں یہ شائع فرما دیا تھا کہ میں صرف اپنے متعلق اس قسم کی دعا کروں گا۔چنانچہ اس مباہلہ کے بعد جو ترقی خدا نے حضرت صاحب کو دی وہ ظاہر ہے۔اس کے بعد ۱۸۹۶ء میں ایک اور اشتہار مباہلہ آپ نے اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع فرمایا۔اور اس میں آپ نے ایک سال کی میعاد بھی مقررفرمائی۔اور یہ بھی شرط لگائی کہ اگر اس عرصہ میں میں عذاب الہی میں مبتلا ہو جاؤں یا میرے مقابل پر مباہلہ کرنے والوں میں سے خواہ وہ ہزاروں ہوں کوئی ایک شخص بھی خدا کے غیر معمولی عذاب کا نشانہ نہ بنے تو میں جھوٹا ہوں۔اور آپ نے بڑی غیرت دلانے والے الفاظ میں مولویوں کو ابھارا مگر کوئی سامنے نہیں آیا۔421 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم بیان کرتے تھے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہمدردی اور وفاداری کے ذکر میں یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے۔کہ اگر ہمارا کوئی دوست ہو اور اس کے متعلق ہمیں یہ اطلاع ملے کہ وہ کسی گلی میں شراب کے نشے میں مدہوش پڑا ہے تو ہم بغیر کسی شرم اور روک کے وہاں جا کر اسے اپنے مکان میں اُٹھالا ئیں اور پھر جب اسے ہوش آنے لگے تو اس کے پاس سے اُٹھ جائیں تا کہ ہمیں دیکھ کر وہ شرمندہ نہ ہو۔اور حضرت صاحب فرماتے تھے کہ وفاداری ایک بڑا عجیب جو ہر ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ شرابیوں اور فاسق فاجروں کو اپنا دوست بنانے میں کوئی حرج نہیں بلکہ منشاء یہ ہے کہ اگر کسی شخص کا کوئی دوست ہو اور وہ کسی قسم کی عملی کمزوری میں مبتلا ہو جاوے۔تو اس وجہ سے اسکا ساتھ نہیں چھوڑ دینا چاہیے بلکہ اسکے ساتھ ہمدردی اور وفاداری کا طریق برتنا چاہیے اور مناسب طریق پر اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔کیونکہ دراصل یہی وہ وقت ہے جبکہ اسے اپنے دوستوں کی حقیقی ہمدردی اور ان کی محبت آمیز نصائح کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسے وقت پر چھوڑ کر الگ ہو جانا دوستانہ وفاداری کے بالکل خلاف ہے ہاں البتہ اگر خود اس دوست کی طرف سے ایسے امور پیش آجاویں کہ جو تعلقات کے قطع ہو جانے کا باعث ہوں تو اور