سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 378 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 378

سیرت المہدی 378 حصہ دوم تھے۔اس طرح حضرت صاحب کو قریباً پندرہ منٹ دروازہ پر انتظار کرنا پڑا اور اس اثنا میں لوگوں کے گروہ در گروہ جو مسجد کے باہر کھڑے تھے۔بلوہ کر کے حضرت صاحب کی طرف آنے لگے۔افسر پولیس ہوشیار تھا اس نے حضرت صاحب سے کہا کہ آپ فوراً میری گاڑی میں بیٹھ کر اپنے مکان کی طرف روانہ ہو جائیں۔کیونکہ لوگوں کا ارادہ بد ہے چنانچہ حضرت صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب دونوں اس گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔اور باقی لوگ بعد میں پیدل مکان پر پہنچے۔اس موقع پر حضرت صاحب کے ساتھ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی اور سید امیر علی شاہ صاحب اور غلام قادر صاحب فصیح اور محمد خان صاحب کپورتھلوی اور حکیم فضل دین صاحب بھیروی اور پیر سراج الحق صاحب اور چھ اور دوست تھے۔اس جامع مسجد والے واقعہ کے تین چار دن بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنے مکان پر ہی مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالوی کے ساتھ تحریری مباحثہ ہوا جس میں یہ باہم فیصلہ ہوا تھا کہ طرفین کے پانچ پانچ پرچے ہوں گے۔لیکن جب حضرت مسیح موعود نے دیکھا کہ مولوی محمد بشیر صاحب کی طرف سے اب انہی پرانی دلیلوں کا جو غلط ثابت کی جاچکی ہیں اعادہ ہو رہا ہے۔اور وہ کوئی نئی دلیل پیش نہیں کرتے۔تو آپ نے فریق مخالف کو یہ بات جتا کر کہ اب مناظرہ کو آگے جاری رکھنا تضیع اوقات کا موجب ہے تین پر چوں پر ہی بحث کو ختم کر دیا۔اور فریق مخالف کے طعن و تمسخر کی پرواہ نہیں کی یہ مناظرہ الحق دہلی کے نام سے شائع ہو چکا ہے اور ناظرین دیکھ سکتے ہیں کہ حضرت صاحب نے واقعی اس وقت بحث کو ختم کیا کہ جب مولوی محمد بشیر کی پونچھی ختم ہو چکی تھی اور صرف تکرار سے کام لیا جارہا تھا۔دراصل انبیاء ومرسلین کو دنیا کی شہرت سے کوئی غرض نہیں ہوتی بلکہ ان کو صرف اس بات سے کام ہوتا ہے کہ دنیا میں صداقت قائم ہو جاوے اور اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے وہ ہر اک دوسری چیز کو قربان کر دیتے ہیں۔ان کی سب عزتیں خدا کے پاس ہوتی ہیں اور دنیا کی عزت اور دنیا کی نیک نامی کا ان کو خیال نہیں ہوتا اور پھر جب وہ خدا کی خاطر اپنی ہر عزت اور نیک نامی کولات ماردیتے ہیں تو پھر خدا کی طرف سے ان کے لئے آسمان سے عزت اترتی ہے اور دین ودنیا کا تاج ان کے سرکا زیور بنتا ہے۔میں اپنے اندر عجیب لذت و سرور کی لہر محسوس کرتا ہوں اور خدائے قدوس کی غیرت و محبت ،