سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 376
سیرت المہدی 376 حصہ دوم متلاطم سمندر میں سے گذرتے ہوئے مسجد کی محراب میں پہنچے اس وقت لوگ عجیب غیظ و غضب کی حالت۔میں آپ کی طرف دیکھ رہے تھے اور ان کی آنکھوں سے خون ٹپکتا تھا اور اگر پولیس کا انتظام نہ ہوتا تو وہ ضرور کوئی حرکت کر گذرتے۔مگر پولیس کے افسر نے جو ایک یورپین تھا نہایت محنت اور کوشش کے ساتھ انتظام کو قائم رکھا اور کوئی عملی فساد کی صورت نہ پیدا ہونے دی تھوڑی دیر کے بعد مولوی سید نذیر حسین صاحب مع اپنے شاگرد مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالمجید وغیرہ کے پہنچ گئے اور ان کے ساتھیوں نے ان کو مسجد کے ساتھ ایک دالان میں بٹھا دیا۔اتنے میں چونکہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا تھا نماز شروع ہوئی لیکن چونکہ حضرت صاحب اور آپ کے ساتھی گھر پر نماز جمع کر کے آئے تھے اس لئے آپ نماز میں شامل نہیں ہوئے نماز کے بعد لوگوں نے شرائط کے متعلق گفتگو شروع کر دی اور کہا کہ مباحثہ حیات ممات مسیح ناصری کے مضمون پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ مرزا صاحب کے دعویٰ مسیحیت کے متعلق ہونا چاہیے۔اور ادھر سے ان کو یہ جواب دیا گیا ہے کہ مضمون کی طبعی ترتیب کو بگاڑ نا اچھا نتیجہ نہیں پیدا کر سکتا جبکہ لوگوں کے دل میں یہ خیالات پختہ طور پر جمے ہوئے ہیں کہ حضرت عیسی آسمان پر زندہ موجود ہیں اور وہی آخری زمانہ میں زمین پر نازل ہوں گے تو جب تک یہ مسئلہ صاف نہ ہولے کسی اور مسئلہ کو چھیڑ نا یونہی وقت کو ضائع کرنا ہے۔جس مسند پر بیٹھنے کے حضرت مرزا صاحب مدعی بنتے ہیں جب لوگوں کے نزدیک وہ مسند خالی ہی نہیں ہے اور حضرت عیسی اس پر رونق افروز ہیں تو حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ مسیحیت پر بحث کرنا فضول ہے۔کیونکہ کوئی شخص مسیح ناصری کو زندہ مانتے ہوئے حضرت مرزا صاحب کے دعوی کی طرف توجہ نہیں کرسکتا۔پس حضرت مرزا صاحب کے دعوئی مسیحیت پر تب بحث ہو سکتی ہے کہ جب پہلے اس مسند کا خالی ہونا ثابت کر لیا جاوے۔پولیس کا انگریز افسر جو اس موقعہ پر موجود تھا وہ اس بات کو خوب سمجھ گیا اور اس نے بھی لوگوں کو سمجھایا کہ جو بات مرزا صاحب کی طرف سے پیش کی جارہی ہے کہ پہلے مسیح ناصری کی حیات ممات کے مسئلہ پر بحث ہونی چاہیے وہی درست ہے مگر مولویوں نے نہ مانا اور ایک شور پیدا کر دیا۔اس کے بعد مولوی نذیر حسین صاحب کے قسم کھانے کے متعلق بحث ہوتی رہی مگر اس سے بھی مولویوں نے حیل و حجت کر کے