سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 368 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 368

سیرت المہدی 368 حصہ دوم ہے۔اور بڑے بڑے لوگ دور دور سے آکر اس کے در کی غلامی کرتے ہیں۔حضرت اقدس اس کی ان باتوں کو سُن کر مسکراتے جاتے تھے اور پھر آخر میں آپ نے فرمایا۔ہاں مجھے یہ ساری باتیں یاد ہیں۔یہ سب اللہ کا فضل ہے ہمارا اس میں کوئی دخل نہیں ہے اور پھر بڑی محبت سے اسے فرمایا کہ ٹھہرو میں تمہارے لئے کھانے کا انتظام کرتا ہوں اور یہ کہہ کر آپ اندر مکان میں تشریف لے گئے۔پیر صاحب لکھتے ہیں کہ پھر وہ بڑھا سکھ جاٹ میرے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گیا۔اور کہنے لگا کہ بڑے مرزا صاحب کہا کرتے تھے کہ میرا یلر کاملا ہی رہے گا اور مجھے فکر ہے کہ میرے بعد یہ کس طرح زندگی بسر کرے گا۔ہے تو وہ نیک مگراب زمانہ ایسا نہیں۔چالاک آدمیوں کا زمانہ ہے۔پھر بعض اوقات آب دیدہ ہو کر کہتے تھے کہ غلام احمد نیک اور پاک ہے۔جو حال اس کا ہے وہ ہمارا کہاں ہے۔پیر صاحب کہتے ہیں کہ یہ باتیں سناتے ہوئے وہ سکھ خود بھی چشم پر آب ہو گیا اور کہنے لگا آج مرزا غلام مرتضی زندہ ہوتا تو کیا نظارہ دیکھتا؟ 416 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر سراج الحق صاحب نے اپنی کتاب ” تذکرۃ المہدی“ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک میمن سیٹھ بمبئی کا قادیان آیا اور پانچ سو روپیہ حضرت صاحب کے لئے نذرانہ لایا اور آتے ہی مجھ سے کہا کہ میں حضرت صاحب کی زیارت کے لئے آیا ہوں۔اور ابھی واپس چلا جاؤں گا۔مجھے زیادہ فرصت نہیں۔ابھی اندر اطلاع کر دیں تا کہ میں ملاقات کر کے واپس چلا جاؤں۔میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں رقعہ لکھا اور سارا حال اس شخص کا لکھ دیا حضرت صاحب نے جواب میں تحریر فرمایا کہ ان کو کہہ دیں کہ اس وقت میں ایک دینی کام میں مصروف ہوں ظہر کی نماز کے وقت انشاء اللہ ملاقات ہوگی۔اس سیٹھ نے کہا کہ مجھے اتنی فرصت نہیں کہ میں ظہر تک ٹھہروں۔میں نے پھر لکھا کہ وہ یوں کہتا ہے۔مگر حضرت صاحب نے کوئی جواب نہ دیا اور وہ واپس چلا گیا۔ظہر کے وقت جب آپ باہر تشریف لائے تو بعد نماز ایک شخص نے عرض کیا کہ ایک میمن سیٹھ حضور کی زیارت کے لئے آیا تھا۔اور پانچ صدرو پی نذرانہ بھی پیش کرنا چاہتا تھا۔حضرت صاحب نے فرمایا ہمیں اس کے روپے سے کیا غرض؟ جب اسے فرصت نہیں تو ہمیں کب فرصت ہے جب اسے خدا کی غرض نہیں تو ہمیں دنیا کی کیا غرض ہے۔