سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 367 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 367

سیرت المہدی 367 حصہ دوم بیان کرتا تھا کہ میں مرزا صاحب ( یعنی حضرت صاحب) سے بیس سال بڑا ہوں اور بڑے مرزا صاحب ( یعنی حضرت صاحب کے والد صاحب) کے پاس میرا بہت آنا جانا رہتا تھا۔میرے سامنے کئی دفعہ ایسا ہوا کہ کوئی بڑا افسر یا رئیس بڑے مرزا صاحب سے ملنے کیلئے آتا تھا تو باتوں باتوں میں ان سے پوچھتا تھا کہ مرزا صاحب ! آپ کے بڑے لڑکے ( یعنی مرزا غلام قادر ) کے ساتھ تو ملاقات ہوتی رہتی ہے لیکن آپ کے چھوٹے بیٹے کو کبھی نہیں دیکھا۔وہ جواب دیتے تھے کہ ہاں میرا ایک چھوٹا لڑکا بھی ہے لیکن وہ الگ الگ ہی رہتا ہے اور لڑکیوں کی طرح شرم کرتا ہے اور شرم کی وجہ سے کسی سے ملاقات نہیں کرتا۔پھر وہ کسی کو بھیج کر مرزا صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود ) کو بلواتے تھے۔مرزا صاحب آنکھیں نیچے کئے ہوئے آتے اور اپنے والد سے کچھ فاصلہ پر سلام کر کے بیٹھ جاتے۔بڑے مرزا صاحب ہنستے ہوئے فرماتے کہ لواب تو آپ نے اس دلہن کو دیکھ لیا ہے اور پیر صاحب نے لکھا ہے کہ وہی سکھ جاٹ ایک دفعہ قادیان آیا اس وقت ہم بہت سے آدمی گول کمرے میں کھانا کھا رہے تھے۔اس نے پوچھا کہ مرزا جی کہاں ہیں ؟ ہم نے کہا اندر ہیں اور چونکہ اس وقت آپ کے باہر تشریف لانے کا وقت نہیں ہے اس لئے ہم بلا بھی نہیں سکتے کیونکہ آپ کام میں مشغول ہو نگے۔جب وہ تشریف لائیں گے مل لینا۔اس پر اس نے خود ہی بے دھڑک آواز دیدی کہ مرزا جی ذرا باہر آؤ۔حضرت اقدس برہنہ سر اسکی آواز سن کر باہر تشریف لے آئے اور اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے فرمایا سردار صاحب! اچھے ہو ، خوش ہو۔بہت دنوں کے بعد ملے۔اس نے کہا ہاں میں خوش ہوں مگر بڑھاپے نے ستا رکھا ہے۔چلنا پھرنا بھی دشوار ہے پھر زمینداری کے کام سے فرصت کم ملتی ہے۔مرزا جی آپ کو وہ پہلی باتیں بھی یاد ہیں۔بڑے مرزا صاحب کہا کرتے تھے کہ میرا یہ بیٹا مسیتر ہے۔نہ نوکری کرتا ہے نہ کماتا ہے اور پھر وہ آپ کو ہنس کر کہتے تھے کہ چلو تمہیں کسی مسجد میں ملا کر وا دیتا ہوں۔دس من دانے تو گھر میں کھانے کو آجایا کریں گے۔پھر آپ کو وہ بھی یاد ہے کہ بڑے مرزا صاحب مجھے بھیج کر آپ کو اپنے پاس بلا بھیجتے تھے۔اور آپ کو بڑے افسوس کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔کہ افسوس میرا یہ لڑکا دنیا کی ترقی سے محروم رہا جاتا ہے۔آج وہ زندہ ہوتے تو یہ چہل پہل دیکھتے کہ کس طرح ان کا وہی مسیت لڑ کا بادشاہ بنا بیٹھا