سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 349 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 349

سیرت المہدی 349 حصہ دوم فرماتے تھے کہ اسلامی حدود کوملحوظ رکھتے ہوئے احمد کی زیادہ شادیاں کریں تاکہ نسل جلدی جلدی ترقی کرے اور قوم پھیلے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بے شک نسل کی ترقی کا یہ ایک بہت عمدہ ذریعہ ہے اور نیز اس طرح یہ فائدہ بھی حاصل ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحبت یافتوں کو اپنے سامنے زیادہ بچوں کی تربیت کا موقعہ مل سکتا ہے۔جو قومی فلاح و بہبود کے لئے بہت ضروری ہے۔لیکن تعددازدواج کے متعلق عدل وانصاف کی جو کڑی شرطیں اسلام پیش کرتا ہے۔ان کا پورا کرنا بھی ہر کس و ناکس کا کام نہیں۔ہاں جن کو یہ توفیق حاصل ہو اور ان کو کوئی جائز ضرورت پیش آجائے وہ بے شک زیادہ بیویاں کریں تا کہ علاوہ ان فوائد کے جو اوپر بیان ہوئے ہیں یہ فائدہ بھی حاصل ہو کہ ایسے لوگوں کے نیک نمونے سے وہ بدظنی اور بدگمانی دُور ہو جو بعض لوگوں کے بدنمونے کے نتیجہ میں تعدد ازدواج کے متعلق اس زمانہ میں خصوصاً حلقہ نسواں میں پیدا ہورہی ہے۔385 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب متوطن فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کئی دفعہ فرمایا کرتے تھے کہ سلطان احمد ( یعنی مرزا سلطان احمد صاحب) ہم سے سولہ سال چھوٹا ہے اور فضل احمد بیس برس اور اس کے بعد ہمارا اپنے گھر سے کوئی تعلق نہیں رہا۔386 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میر حامد شاہ صاحب مرحوم سیالکوٹی اور ان کے والد میر حسام الدین صاحب قادیان میں موجود تھے حضرت صاحب کے سامنے ذکر ہوا کہ میر حسام الدین صاحب کی بیوی فوت ہو چکی ہے۔جس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ میر صاحب کہیں اور شادی کرالیں۔بلکہ میر حامد شاہ صاحب سے فرمایا کہ میر حسام الدین صاحب کی شادی کا بندوبست کرا دیں۔اس وقت میر حسام الدین صاحب بہت معمر تھے۔387 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ انسپکٹر جنرل آف ہاسپٹلز کی طرف سے یہ حکم جاری ہوا کہ سب ڈاکٹر جو برانچ ہسپتالوں میں کام کرتے ہیں سال میں دوماہ ضلع کے صدر ہسپتال میں جا کر کام کیا کریں تاکہ نئے نئے تجربات اور طریق کار سے واقف رہیں