سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 347
سیرت المہدی 347 حصہ دوم رکھتے تم ایمان لاؤ کہ کو نین ملیریا کے کیٹروں کو مارتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ ایمان تمہارے دلوں میں قائم ہو کہ اس کی یہ خاصیت خدا کی طرف سے ہے۔خود بخود نہیں۔اور اگر خدا چاہے تو اس سے اس کی یہ خاصیت چھین کر ایک مٹی کے ڈلے میں وہی خاصیت پیدا کر دے یا محض اپنے حکم سے بلاکسی درمیانی سبب کے وہ نتائج پیدا کر دے جو کو نین پیدا کرتی ہے۔یہ ایمان کہنے کو تو ہر مومن کے دل میں ہوتا ہے لیکن کم ہیں بہت ہی کم ہیں جن کے دل عملاً اس ایمان کی زندہ حقیقت سے منور ہوتے ہیں۔اور اکثر یہی ہوتا ہے کہ بعض لوگ تو اسباب کو ترک کر دیتے ہیں کہ جو ہونا ہے وہ ہو رہے گا۔اور اس طرح خدا کے پیدا کردہ سامانوں کی بے حرمتی کر کے خدا کی ناراضگی کا نشانہ بنتے اور نقصان اُٹھاتے ہیں اور بعض اس طرح اسباب پر گرتے ہیں کہ گویا خدا کچھ بھی نہیں اور جو کچھ ہونا ہے ان اسباب سے ہونا ہے یہ دونوں گروہ راہ صواب سے دُور اور پر دہ ظلمت میں مستور ہیں۔اور حق پر صرف وہی ہے جو انبیاء کی سنت پر چل کر اسباب کی پوری پوری رعایت رکھتا ہے مگر اس کا دل اس زندہ ایمان سے معمور رہتا ہے کہ ان اسباب کے پیچھے ایک اور طاقت ہے جس کے اشارہ پر یہ سب کا رخانہ چل رہا ہے اور جس کے بغیر یہ سب اسباب بالکل مردہ اور بے تاثیر ہیں۔مگر یہ مقام ایمان کا ایک بڑے مجاہدہ کے بعد حاصل ہوتا ہے اور اس پر قائم رہنا بھی ہر وقت کا مجاہدہ چاہتا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ ؎ ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشنده 383 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں انٹرنس کا امتحان دے کر ۱۸۹۷ء میں قادیان آیا تو نتیجہ نکلنے سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر مجھ سے پوچھا کرتے تھے کہ کوئی خواب دیکھا ہے؟ آخر ایک دن میں نے بیان کیا کہ میں نے خواب میں گلاب کے پھول دیکھے ہیں۔فرمانے لگے اس کی تعبیر تو غم ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ میں اس سال امتحان میں فیل ہو گیا۔نیز ویسے بھی جن دنوں میں کوئی اہم امر حضور کے زیر نظر ہوتا تھا تو آپ گھر کی مستورات اور بچوں اور