سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 346 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 346

سیرت المہدی 346 حصہ دوم نکتہ ہے جس پر قائم کرنے کیلئے انبیاء مبعوث ہوتے ہیں اور غور کیا جاوے تو یہ مقام کوئی آسان مقام نہیں بلکہ ہر وقت کا مجاہدہ اور نہایت پختہ ایمان چاہتا ہے عموماً لوگ اسباب کو کام میں لاتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اسباب کو جو بھی طاقت اور اثر حاصل ہے وہ سب خدا کی طرف سے ودیعت کیا گیا ہے اور اپنی ذات میں وہ ایک مُردہ کیڑے سے بھی بڑھ کر حیثیت نہیں رکھتے اور یہ کمزوری ایک حد تک ان لوگوں میں بھی پائی جاتی ہے جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم صرف رسمی طور پر خدا کو نہیں مانتے بلکہ واقعی اور حقیقت دل کی بصیرت کے ساتھ اس پر ایمان لائے ہیں۔ہر شخص اپنے دل کے اندر غور کر کے دیکھے کہ جب اس کا کوئی قریبی عزیز سخت بیمار ہو جاتا ہے یا اس کے خلاف کوئی نہایت سنگین مقدمہ کھڑا ہو جاتا ہے یا وہ کسی ایسے قرضہ یا مالی بوجھ کے نیچے دب جاتا ہے کہ جو اس کی طاقت سے باہر ہے اور جس کے ادا نہ ہونے کی صورت میں اسے اپنی یقینی تباہی نظر آتی ہے تو وہ کس طرح بے تاب ہو کر ڈاکٹروں کی طرف بھاگتا اور علاج معالجہ میں منہمک ہو جاتا ہے یا وہ کس طرح وکیلوں کے پیچھے پیچھے جاتا اور ان کو باوجود ایک بڑی رقم بطور فیس کے دینے کے ان کی خوشامد اور منت سماجت کر کے ان کی توجہ کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور بعض اوقات اگر موقعہ پائے تو عدالت کی خوشامد کرتا اور سفارشوں کے ذریعہ اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یا وہ کس طرح سرمایہ داروں کے در کی جبہ سائی کرنا اور ان سے روپیہ حاصل کر کے اپنی مالی مصیبت سے رہائی پانے کی راہ تلاش کرتا ہے اور یہ ساری کارروائی وہ اس طرح منہمک ہو کر کرتا ہے کہ گویا خدا تو صرف ایک نام ہی نام ہے اور اصل حاجت براری کا موجب یہی اسباب ہیں۔کیونکہ اسباب کے میسر نہ آنے پر وہ مایوس ہونے لگتا ہے اور یقین کر لیتا ہے کہ بس اب اس کی رہائی کی کوئی صورت نہیں اور یہی وہ مخفی شرک ہے جس سے نجات دینے کے لئے انبیاء مبعوث ہوتے ہیں جو آکر یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اسباب کو اختیار کرو کیونکہ وہ خدا کے پیدا کردہ ہیں اور خدا کی حکمت ازلی نے ان کے اندر تاثیرات ودیعت کی ہیں۔جن سے تم فائدہ اُٹھا سکتے ہو لیکن ساتھ ہی ہر وقت تمہارے دل اس یقین سے معمور رہیں کہ تمام طاقتوں اور قدرتوں کا منبع ذات باری تعالیٰ ہے۔اور اگر اس منبع سے چشمہ فیض بند ہو جاوے تو یہ اسباب ایک مُردہ کیڑے سے زیادہ حقیقت نہیں